نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں جاری بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی سطح پر ہنگامی اقدامات جاری ہیں۔
ٹیکنیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر طیب شاہ کے مطابق بارشوں کا موجودہ سلسلہ 22 اگست تک جاری رہے گا جس میں مزید شدت متوقع ہے، جبکہ اس کے بعد مون سون کا ایک اور سلسلہ پاکستان کو متاثر کرے گا۔
سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑکوں کی صورتحال
گلگت بلتستان میں سومرو پل، گانچھے، سالتورو پل، باغیچہ (سکردو) پل کو شدید نقصان؛ سفر سے مکمل گریز کریں۔
– جگلوٹ-سکردو روڈ : آمدورفت معطل۔
– دیان، تھلی بروق، کلٹی (غذر): راستے مکمل بند؛ سفر ممکن نہیں۔ pic.twitter.com/B5FrdtFmVp— NDMA PAKISTAN (@ndmapk) August 16, 2025
ان کا کہنا تھا کہ خلیج بنگال سے ایک نیا سسٹم پاکستان کی طرف بڑھ رہا ہے، اسی طرح افغانستان کے ننگرہار اور قندھار ریجن سے بھی بارشوں کے نئے سلسلے ملک کے شمالی علاقوں اور پنجاب کو متاثر کر سکتے ہیں۔
جنرل منیجر این ڈی ایم اے زارا حسن نے بریفنگ میں بتایا کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران شدید بارشوں کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شمالی پاکستان میں بارشیں اور لینڈ سلائیڈز، کئی شاہراہیں اور پل بند
ان کے مطابق تربیلا ڈیم اس وقت 98 فیصد بھر چکا ہے اور آنے والے دنوں میں پانی کے ذخائر میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کٹاریاں اور گوالمنڈی میں پانی کی سطح 15 فٹ تک بلند ہو چکی ہے، جبکہ کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں نیا بارشوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کے نیلم، پونچھ اور باغ کے اضلاع میں بھی سیلابی خطرات بڑھ گئے ہیں، اسی طرح خیبر پختونخوا کے پشاور، چترال، دیر اور چارسدہ سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
بریگیڈیئر کامران، ممبر آپریشنز این ڈی ایم اے نے بتایا کہ فروری 2025 سے مون سون کے پیش نظر تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا تھا اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر نقصانات سے بچاؤ کے اقدامات کیے گئے۔

تاہم بونیر اور باجوڑ میں حالیہ تباہی کلاؤڈ برسٹ کے باعث ہوئی۔ ان کے مطابق گزشتہ دو روز میں 337 افراد جاں بحق اور 178 زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آرمی اور ایف سی کے ذریعے صوبائی حکومتوں کو ریسکیو کے لیے وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے امدادی سامان کی دوسری کھیپ کل بونیر روانہ کی جائے گی۔
شمالی پاکستان میں بارشیں اور لینڈ سلائیڈز، کئی شاہراہیں اور پل بند
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے شمالی پاکستان میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈز کے بعد سفری ایڈوائزری جاری کر دی ہے، جس کے مطابق متعدد اہم شاہراہیں اور پل عارضی یا مستقل طور پر بند ہو گئے ہیں۔
ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ سَومرو برج (گانچھے)، سالٹورو ریور برج، باغیچہ اسکردو اور شایوک پل کو نقصان پہنچا ہے اور ان پر سفر مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح جگلوٹ–اسکردو روڈ پر استک، چمچو اور شنگوس کے مقامات پر آمد و رفت عارضی طور پر معطل ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق غذر کے علاقے دیان، تھلے اور کلتی میں راستے بند ہیں، جبکہ بابوسر ٹاپ روڈ، نلتر–گلگت روڈ اور ہنزہ کے گوجال گلملٹ روڈ بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ سیاحوں کو ان راستوں پر جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
علاوہ ازیں شانگلہ، بٹگرام، تورغر، لوئر کوہستان، تتہ پانی، گلگت اور ہنزہ کے مختلف حصوں میں بھی عارضی رکاوٹیں اور بلاکجز رپورٹ ہوئی ہیں۔ منگورہ سوات روڈ بھی لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے باعث متاثرہ مقامات میں شامل ہے۔

این ڈی ایم اے نے عوام اور سیاحوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ متاثرہ شاہراہوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور صرف ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔
خیبر پختونخوا میں کم از کم 314 افراد جاں بحق اور 156 زخمی ہوگئے۔
قبل ازیں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے اتوار کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث کم از کم 314 افراد جاں بحق اور 156 زخمی ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 264 مرد، 29 خواتین اور 21 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 124 مرد، 23 خواتین اور 10 بچے شامل ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں کے نتیجے میں 159 مکانات متاثر ہوئے جن میں سے 97 جزوی طور پر جبکہ 62 مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بونیر ضلع سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 209 افراد جاں بحق ہوئے۔ دیگر متاثرہ اضلاع میں سوات، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن تیز کیے جائیں۔
حکومت نقصان کا 100 فیصد ازالہ کرے گی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا متاثرین سے وعدہ
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کا فوکس اس وقت جاری ریسکیو آپریشن پر ہے۔ کافی راستے بحال ہوچکے ہیں تاہم کچھ راستے اب بھی بند ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے اعلان کیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت حالیہ سیلاب سے ہونے والے تمام نقصانات کا سو فیصد ازالہ کرے گی۔
— Mehwish Qamas Khan (@MehwishQamas) August 16, 2025
انہوں نے کہا کہ ایوی ایشن کی مدد بھی لی گئی ہے اور پہلے تمام راستے بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد حکومت متاثرہ افراد کے نقصانات کا ازالہ کرے گی۔
علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ جانی نقصان کا ازالہ ممکن نہیں، لیکن یقین دلاتا ہوں کہ گھروں اور دیگر مالی نقصانات کا مکمل معاوضہ دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:بونیر: خاندان کے 22 افراد سیلاب کی نذر، ’سمجھ نہیں آتا لاشیں دفنائیں یا ملبہ مزید کھنگالیں‘
انہوں نے بتایا کہ تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے فون کرکے متاثرین اور صوبائی حکومت سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ این ڈی ایم اے سے بھی رابطہ ہے اور اگر ضرورت پڑی تو وہ تعاون فراہم کریں گے۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ وسائل کی کوئی کمی نہیں، جیسے ہی تمام سڑکیں بحال ہوں گی اور ڈیٹا سامنے آئے گا، متاثرہ افراد کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ صوبے کا حق ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ اور این ڈی ایم اے مدد کریں، لیکن صوبائی حکومت کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ نقصان کا 100 فیصد ازالہ کیا جا سکے۔














