سندھ میں پیپر آؤٹ سے لیکر داخلوں تک کرپشن کا بڑا اسکینڈل، منظم گروہ کے خلاف گھیرا تنگ

بدھ 20 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ کی سرکاری میڈیکل یونیورسٹیز میں کروڑوں روپے کی مبینہ رشوت اور مختلف محکموں کے افسران کی ملی بھگت سے داخلوں کا انکشاف ہوا ہے۔ انسانی حقوق کے محافظ ادارے کا سینئیر افسر ہی شہریوں کو لوٹنے والے گروہ کا سرغنہ نکلا۔ زیر الزام افسر کو متعلقہ محکمےکی جانب سے شو کاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات شروع کر دیں، داخلے کے نام پر کئی شہریوں سے لاکھوں روپے بھی بٹور لیے گئے۔

 سندھ میں سرکاری نوکریوں، یونیورسٹیز کے داخلے، اور انٹرمیڈیٹ میں مارکس کی فروخت سمیت میرٹ کے قتل اور متوسط طبقے کی مبینہ حق تلفی کے الزامات آئے روز میڈیا میں خبروں کی زینت بنتے ہیں۔ یہ الزامات اب اتنے عام ہوچکے ہیں کہ پڑھنے اور سننے والا بھی اسے معمول کی خبر گردان کر نظر انداز کر دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے کرپشن کیس میں گرفتار 3500 سرکاری ملازمین سے کتنی وصولی کی گئی؟

لیکن وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیوروکریسی کے متعلق دیئے گئے بیان سمیت چند پس پردہ جاری خبروں سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب اختیارات کے ایسے ناجائز استعمال، رشوت خوری، پیسوں کے عوض میرٹ کے قتل کے معاملات کو شاید نظر انداز نہ کیا جائے ۔

اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کے مطابق بالائی سندھ اور کراچی میں تحقیقات کا آغاز کیا جاچکا ہے جس میں ابتدائی طور پر سامنے آنے والے انکشافات حیران کن ہیں۔

ذرائع کے مطابق شہید بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ، لیاقت یونیورسٹی جامشورو اور ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کراچی سمیت سندھ کی مختلف سرکاری میڈیکل یونیورسٹیز میں ایم بی بی ایم کی سیٹس کو مبینہ طور پر 50 سے 60 لاکھ روپے میں فروخت کرنے والے گروہ کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کراچی سندھ سیکریٹریٹ کے دفتر میں بطور کمپلینٹ سپرنٹنڈنٹ تعینات ظہیر حسین ٹھاکر ایک منظم گروہ کے سرغنہ ہیں۔ انہوں نے لاڑکانہ سمیت مختلف شہروں کے شہریوں سے ایم بی بی ایس کی سیٹ دلوانے کے بدلے کروڑوں روپے بٹورے ہیں۔ اس حوالے سے مختلف فیملیز کو بھیجے گئے ان کے وائس نوٹس جس میں وہ اور ان کے مبینہ ساتھی انصر حسن نہ صرف سندھ کی مختلف یونیورسٹیز میں داخلے کروانے کا اعتراف کر رہے ہیں بلکہ فیملیز سے پیسوں کا تقاضا کرتے اور معاملات طے کرتے بھی پائے گئے ہیں۔

 لاڑکانہ کی ایک فیملی کی جانب سے ظہیر حسین کو چانڈکا میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے بطور ایڈوانس 16 لاکھ روپے بھی بھیجے گئے جو کہ ملزم ظہیر حسین ٹھاکر نے اپنے قریبی عزیز کے اکاؤنٹ میں منگوائے تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ملزمان کے ایجنٹس شہریوں کو یہ کہہ کر جھانسے میں لاتے تھے کہ کام کروانے والا شخص سندھ حکومت کا ایک اعلیٰ افسر ہے جو کہ سندھ سیکریٹریٹ میں بیٹھتا ہے۔ سرکاری افسر کا سن کر شہری بہ آسانی یقین کر لیتے تھے اور منہ مانگے پیسے بھیج دیتے تھے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کو داخلوں کی مد میں بھیجے گئے لاکھوں روپوں کے شواہد مل چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے کرپشن الزامات کا سامنا کرنے والے پی ٹی آئی کے سابق وزیر کے گرد گھیرا تنگ

 دوسری جانب متعلقہ الزامات کے متعلق جب چیئرپرسن سندھ ہیومن رائٹس کمیشن اقبال ڈیتھو سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ظہیر حسین ٹھاکر کا تعلق ضلع میرپورخاص کے گاؤں جھلوری سے ہے۔ وہ گزشتہ 8 برسوں سے سندھ ہیومن رائٹس کمیشن میں بطور کمپلینٹ سپرنٹنڈنٹ کانٹریکٹ پر ملازمت کر رہے ہیں۔ ان کے متعلق سندھ حکومت کے محکمہ انسانی بہبود کی جانب سے میڈیکل سیٹس مبینہ فروخت کرنے کے متعلق تحریری شکایت بھی موصول ہوئی ہے جس پر ظہیر حسین ٹھاکر کو شوکاز نوٹس جاری کیا جاچکا ہے۔ حتمی فیصلہ بورڈ کرے گا۔ تاہم سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے ممبر مائیناٹیز اور حکومت سندھ کے ترجمان سکھدیو ہیمنانی سے جب ظہیر حسین ٹھاکر کے متعلق موقف مانگا گیا تو وہ خاموش رہے۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کو ظہیر حسین ٹھاکر کے خلاف متعدد شکایات مل چکی ہیں لیکن کبھی کوئی کاروائی نہیں ہوئی جس کی ایک بڑی وجہ مختلف بااثر ممبرز کی جانب سے ان کی پشت پناہی ہے جبکہ سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے ذرائع کا بھی کہنا ہے کہ کمیشن کے تمام ممبران ظہیر حسین ٹھاکر کے خلاف تمام شکایات سے بخوبی واقف ہیں لیکن اس کے باوجود ان کا کانٹریکٹ ہر سال ری نیو ہوجاتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ظہیر حسین کا ساتھی انصر حسن خود کو ڈاؤ یونیورسٹی کا سینئیر افسر بتا کر اس منظم گروہ کا حصہ ہے۔

ذرائع کے مطابق ظہیر حسین ٹھاکر داخلے کی طلبگار فیملیز کو یہ کہہ کر جھانسہ دیتے تھے کہ ایم ڈی کیٹ نتائج آنے کے بعد متعلقہ طالبعلموں کے نتائج کو مارکس کی درستگی کے لیے مبینہ طور پر پی ایم ڈی سی بھیجوایا جائے گا، وہاں سے مارکس کی درستگی کے بعد داخلہ مل جائے گا، تاہم ظہیر حسین ٹھاکر سمیت اس پورے گروہ کا راز تب فاش ہوا جب سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے 2024 میں پیپر آؤٹ ہونے پر ایم ڈی کیٹ کے نتائج کو منسوخ کر دیا گیا اور آئی بی اے کے تحت دوبارہ ٹیسٹ کروائے گئے۔ اس دوران جب متعلقہ فیملیز نے ظہیر حسین ٹھاکر سے پیسے واپس مانگے تو انہوں نے بہانے بنانا شروع کر دیے اور اپنے قانونی دفاع میں لگ گئے۔

یہ بھی پڑھیے کوہستان اسکینڈل: 40 ارب روپے کرپشن کیس میں سابق بینک منیجر گرفتار

ظہیر حسین ٹھاکر نے خود کو کسی مشکل سے بچانے کے لیے سندھ پولیس کے چند افسران سے بھی مبینہ طور پر مدد حاصل کی ہے۔ اس حوالے سے ظہر حسین نے

 خود کو محفوظ کرنے کے لیے چند دیگر افراد پر معمولی نوعیت کے چند مقدمات بھی درج کروائے ہیں تاکہ وہ خود اس کھیل میں وکٹم کارڈ کا استعمال کر سکیں۔

متعلقہ معاملہ سامنے آنے اور تمام راز افشا کرنے پر ظہیر حسین ٹھاکر کی جانب سے مبینہ طور پر متعلقہ فیملیز کو خطرناک نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پورے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے مزید تفتیش کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ نے 12 ارب ڈالر کا سنگ میل عبور کر لیا

’میں نازیبا کپڑے نہیں پہنتی‘، رمضان ٹرانسمیشن میں ساڑھی پر تنقید کے بعد جویریہ سعود کی وضاحت

دی ہنڈرڈ میں پاکستانی کرکٹرز کی شرکت خطرے میں، آئی پی ایل روابط آڑے آگئے

حکومتی مراعات: ایپل کمپنی پاکستان میں آئی فون تیار کرے گی

ہاکی کی بحالی کا مشن شروع، ایڈہاک صدر نے پی ایچ ایف میں بڑی اصلاحات کا اعلان کردیا

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب