محصور خطے میں جاری جنگ اور تباہی کے سائے میں ایک دردناک منظر اس وقت سامنے آیا جب قریۃ الوفاء یتیم خانہ کے ایک ہزار فلسطینی بچے گریجویشن کی تقریب میں فارغ التحصیل ہوئے۔
View this post on Instagram
تقریب میں شریک بچوں نے روایتی یونیفارم اور ٹوپیاں پہن کر کامیابی کا جشن منایا، لیکن ان کی مسکراہٹوں کے پیچھے دکھ اور خاموش آنسو نمایاں تھے۔ ان میں سے کئی بچے ایک ہاتھ میں ڈگری تھامے ہوئے تھے اور دوسرے ہاتھ میں اپنے والدین یا پیاروں کی تصاویر اٹھائے کھڑے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی محکمہ خارجہ: اسرائیل غزہ پالیسی پر اختلاف رائے ظاہر کرنے پر سینیئر اہلکار برطرف
یہ بچے اُن والدین سے محروم ہیں جو اسرائیلی بمباری اور تنازع کے دوران جاں بحق ہوئے۔ ہر بچے کی اپنی کہانی ہے، جو ماں کی جدائی، باپ کی شہادت یا اجڑے ہوئے گھر کی تلخ یادوں سے شروع ہوتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق تقریب کے دوران نہ صرف بچے بلکہ اساتذہ اور شریک شرکاء بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور کئی بار ماحول اشکبار ہوگیا۔
بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان مناظر کو ’غزہ کے سب سے المناک لمحات‘ قرار دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ تقریب ایک طرف بچوں کی تعلیمی کامیابی کی علامت تھی، تو دوسری جانب جنگ کے تباہ کن اثرات کی ایک جیتی جاگتی تصویر بھی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ کے نہتے بچوں کے تحفظ اور ان کے مستقبل کے لیے فوری اقدامات کرے تاکہ تعلیم جیسے بنیادی حق کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچایا جا سکے۔














