اسرائیل پر پابندیوں کے لیے کابینہ کی حمایت نہ ملنے پر ڈچ وزیر خارجہ مستعفی

ہفتہ 23 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈچ وزیرِ خارجہ کاسپر ویلڈکیمپ نے اسرائیل پر پابندیاں لگانے کے لیے کابینہ سے درکار حمایت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ویلڈکیمپ جو ماضی میں اسرائیل میں نیدرلینڈز کے سفیر بھی رہ چکے ہیں، نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی اقدامات پر سخت مؤقف اپنانا چاہتے تھے لیکن اتحادی جماعتوں کی حمایت حاصل نہ کرسکے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ ایسی پالیسی پر کام جاری نہیں رکھ سکتے جس پر عملدرآمد ممکن نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیے: غزہ میں 83 فیصد عام شہری شہید ہوئے، اسرائیلی فوج کے خفیہ ریکارڈ سے انکشاف

ویلڈکیمپ کے استعفے کے بعد ان کی جماعت نیو سوشل کنٹریکٹ کے دیگر وزراء نے بھی حکومت چھوڑنے کا اعلان کردیا جس سے ڈچ کابینہ شدید بحران کا شکار ہوگئی۔ پارٹی کے سربراہ ایڈی فان ہیجُم نے کہا کہ ہم اس باب کو ختم سمجھتے ہیں، اسرائیلی حکومت کے اقدامات عالمی معاہدوں کے بالکل منافی ہیں۔

یاد رہے کہ جون میں بھی ڈچ وزیرِاعظم ڈک شوف کی حکومت اُس وقت گر گئی تھی جب دائیں بازو کے رہنما گیرٹ ولڈرز نے امیگریشن پالیسی پر اختلافات کی بنیاد پر اتحاد سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ باقی 3 جماعتیں اکتوبر کے انتخابات تک نگران حکومت کے طور پر کام کر رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے: امریکی محکمہ خارجہ: اسرائیل غزہ پالیسی پر اختلاف رائے ظاہر کرنے پر سینیئر اہلکار برطرف

اس دوران پارلیمان میں اسرائیل پر پابندیاں لگانے کی بحث بار بار ملتوی ہوتی رہی۔ حزبِ اختلاف کی رہنما کاتی پیری نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں قحط، نسلی صفائی اور نسل کشی ہورہی ہے اور ہماری کابینہ گھنٹوں سے یہ طے نہیں کر پا رہی کہ کچھ کرنا ہے یا نہیں۔ یہ شرمناک ہے۔

ویلڈکیمپ نے اسرائیلی مقبوضہ علاقوں میں قائم بستیوں سے درآمدات پر پابندی کی تجویز دی تھی، تاہم حکومت فیصلہ نہ کرسکی۔ اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی وزیرِ خارجہ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا اعلان کر چکی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp