غزہ میں 83 فیصد عام شہری شہید ہوئے، اسرائیلی فوج کے خفیہ ریکارڈ سے انکشاف

جمعہ 22 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیلی فوج کے خفیہ ڈیٹا بیس سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق اسرائیل کی غزہ میں جارحیت کے دوران شہید ہونے والوں میں 6 میں سے 5 افراد عام شہری ہیں۔ جدید جنگوں میں یہ انتہائی غیر معمولی اور خطرناک شرح سمجھی جاتی ہے۔

انکشاف کیسے ہوا؟

برطانوی اخبار گارڈین، اسرائیلی-فلسطینی پلیٹ فارم +972 میگزین اور عبرانی نیوز آؤٹ لیٹ لوکل کال کی مشترکہ تحقیق کے مطابق مئی 2025 تک اسرائیلی انٹیلی جنس نے صرف 8,900 حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد (PIJ) کے جنگجوؤں کو ہلاک یا’ممکنہ طور پر ہلاک ‘ قرار دیا۔ اس وقت تک غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق کل ہلاکتیں 53,000 تک پہنچ چکی تھیں۔ اس ڈیٹا سے واضح ہوا کہ صرف 17 فیصد ہلاک شدگان جنگجو تھے، جب کہ 83 فیصد عام شہری تھے۔

عالمی تناظر

ماہرین کے مطابق اتنی زیادہ شرحِ شہری ہلاکتیں جدید جنگی تاریخ میں شاذونادر ہی دیکھی گئی ہیں۔

سویڈن کی اپسالا کانفلکٹ ڈیٹا پروگرام کی ماہر تھریسے پیٹرشسن کے مطابق یہ شرح صرف چند مثالوں میں دیکھی گئی، جیسے بوسنیا کے سربرینیتسا قتل عام، روانڈا کی نسل کشی اور روس کے محاصرے میں ماریوپول (2022)۔

اسرائیل کا موقف

اسرائیلی فوج نے ڈیٹا بیس کے وجود سے انکار نہیں کیا، لیکن کہا ہے کہ ’پیش کردہ اعداد و شمار درست نہیں‘ اور یہ فوجی نظام میں موجود ڈیٹا کی عکاسی نہیں کرتے۔ تاہم فوج نے واضح نہیں کیا کہ کون سے اعداد و شمار غلط ہیں۔

مزید تفصیلات

خفیہ ڈیٹا بیس کے مطابق غزہ میں 47,653 افراد کو حماس اور اسلامی جہاد کے عسکری ونگز کا سرگرم رکن سمجھا جاتا ہے، لیکن ان میں سے بیشتر ابھی زندہ ہیں۔

اس کے باوجود اسرائیلی حکام اور سیاست دان بارہا دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ 20 ہزار سے زائد جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں، اور شہری و جنگجو ہلاکتوں کا تناسب’1:1‘ہے۔

سابق جنرل اتژاک بریک نے کھل کر اعتراف کیا:’سیاست دان جو تعداد بتاتے ہیں اور زمینی حقیقت میں کوئی تعلق نہیں، یہ سب ایک بڑا فریب ہے۔‘

ماہرین کا تجزیہ

انسانی حقوق کے ماہرین اور نسل کشی کے محققین نے کہا ہے کہ غزہ میں شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں اور غذائی قلت کو بطور ہتھیار استعمال کرنا نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اسرائیل نے جنگی اصولوں کو نظرانداز کر کے ایسی پالیسی اپنائی ہے جس میں عام شہریوں کو بھی ’ہدف‘ سمجھا جاتا ہے۔

موجودہ صورتحال

اسرائیلی کارروائیوں نے غزہ کا بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ ہزاروں لوگ اب بھی ملبے تلے دبے ہیں، جبکہ زندہ بچ جانے والوں کو خوراک کی کمی اور فوجی آپریشنز کا سامنا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ جنگ علاقے پر کنٹرول اور آبادی کو جبری بےدخل کرنے کی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کھیل میں بھی سیاست، ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ کے میچ میں بھارتی کپتان نے پاکستانی کپتان سے ہاتھ نہ ملایا

ڈراما سیریل’ڈاکٹر بہو‘ کیوں مشہور ہو رہا ہے؟، ہدایتکار مہرین جبار نے وجہ بتادی

ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کفایت شعاری مہم کے تحت نئی پابندیاں، وفاقی وزرا کا پیٹرول کوٹہ نصف کردیا گیا، اعظم نذیرتارڑ

300 ارب روپے کے بلا سود قرضے، وفاقی حکومت نے کاشتکاروں کے لیے بڑا اعلان کردیا

ویڈیو

مشکل معاشی حالات میں حکومت نے بہترین بجٹ پیش کیا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

امریکا ایران ڈیل فائنل، پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟

وزیراعظم شہباز شریف کی چارٹر آف اکانومی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کے لیے اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت

کالم / تجزیہ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ

سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے کیوں اہم ہیں؟

ہارڈ اسٹیٹ: گزارا کرنا سیکھیں