اسرائیلی فوج کے خفیہ ڈیٹا بیس سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق اسرائیل کی غزہ میں جارحیت کے دوران شہید ہونے والوں میں 6 میں سے 5 افراد عام شہری ہیں۔ جدید جنگوں میں یہ انتہائی غیر معمولی اور خطرناک شرح سمجھی جاتی ہے۔
انکشاف کیسے ہوا؟
برطانوی اخبار گارڈین، اسرائیلی-فلسطینی پلیٹ فارم +972 میگزین اور عبرانی نیوز آؤٹ لیٹ لوکل کال کی مشترکہ تحقیق کے مطابق مئی 2025 تک اسرائیلی انٹیلی جنس نے صرف 8,900 حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد (PIJ) کے جنگجوؤں کو ہلاک یا’ممکنہ طور پر ہلاک ‘ قرار دیا۔ اس وقت تک غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق کل ہلاکتیں 53,000 تک پہنچ چکی تھیں۔ اس ڈیٹا سے واضح ہوا کہ صرف 17 فیصد ہلاک شدگان جنگجو تھے، جب کہ 83 فیصد عام شہری تھے۔
عالمی تناظر
ماہرین کے مطابق اتنی زیادہ شرحِ شہری ہلاکتیں جدید جنگی تاریخ میں شاذونادر ہی دیکھی گئی ہیں۔

سویڈن کی اپسالا کانفلکٹ ڈیٹا پروگرام کی ماہر تھریسے پیٹرشسن کے مطابق یہ شرح صرف چند مثالوں میں دیکھی گئی، جیسے بوسنیا کے سربرینیتسا قتل عام، روانڈا کی نسل کشی اور روس کے محاصرے میں ماریوپول (2022)۔
اسرائیل کا موقف
اسرائیلی فوج نے ڈیٹا بیس کے وجود سے انکار نہیں کیا، لیکن کہا ہے کہ ’پیش کردہ اعداد و شمار درست نہیں‘ اور یہ فوجی نظام میں موجود ڈیٹا کی عکاسی نہیں کرتے۔ تاہم فوج نے واضح نہیں کیا کہ کون سے اعداد و شمار غلط ہیں۔
مزید تفصیلات
خفیہ ڈیٹا بیس کے مطابق غزہ میں 47,653 افراد کو حماس اور اسلامی جہاد کے عسکری ونگز کا سرگرم رکن سمجھا جاتا ہے، لیکن ان میں سے بیشتر ابھی زندہ ہیں۔
اس کے باوجود اسرائیلی حکام اور سیاست دان بارہا دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ 20 ہزار سے زائد جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں، اور شہری و جنگجو ہلاکتوں کا تناسب’1:1‘ہے۔

سابق جنرل اتژاک بریک نے کھل کر اعتراف کیا:’سیاست دان جو تعداد بتاتے ہیں اور زمینی حقیقت میں کوئی تعلق نہیں، یہ سب ایک بڑا فریب ہے۔‘
ماہرین کا تجزیہ
انسانی حقوق کے ماہرین اور نسل کشی کے محققین نے کہا ہے کہ غزہ میں شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں اور غذائی قلت کو بطور ہتھیار استعمال کرنا نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اسرائیل نے جنگی اصولوں کو نظرانداز کر کے ایسی پالیسی اپنائی ہے جس میں عام شہریوں کو بھی ’ہدف‘ سمجھا جاتا ہے۔
موجودہ صورتحال
اسرائیلی کارروائیوں نے غزہ کا بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ ہزاروں لوگ اب بھی ملبے تلے دبے ہیں، جبکہ زندہ بچ جانے والوں کو خوراک کی کمی اور فوجی آپریشنز کا سامنا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ جنگ علاقے پر کنٹرول اور آبادی کو جبری بےدخل کرنے کی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔














