امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پینٹاگون نے یوکرین کو امریکی ساختہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں (ATACMS) کے ذریعے روسی سرزمین پر حملے کرنے سے روک دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:روس یوکرین علاقائی تنازع: زیلنسکی، پیوٹن سے براہ راست مذاکرات کے لیے تیار
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پالیسی رواں سال بہار سے نافذ ہے اور ایک موقع پر واشنگٹن نے کیف کی درخواست مسترد بھی کی تھی۔
اخبار نے اس فیصلے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی امن کوششوں سے جوڑا ہے۔

گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے الاسکا میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے 2019 کے بعد پہلی ملاقات کی، جس کے بعد واشنگٹن میں یوکرین، نیٹو، یورپی یونین اور یورپی ممالک کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کی۔
یہ بھی پڑھیں:روس کا یوکرین پر سب سے بڑا فضائی حملہ، 574 ڈرون اور 40 میزائل داغے دیے
ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین روس کو نشانہ بنائے بغیر جنگ نہیں جیت سکتا، تاہم انہوں نے ماسکو اور کیف دونوں پر زور دیا کہ جلد از جلد امن معاہدے پر پہنچیں۔
ٹرمپ ماضی میں یوکرین کو دی جانے والی غیر مشروط فوجی امداد پر بھی تنقید کر چکے ہیں اور فروری میں صدر زیلنسکی پر ’’تیسری عالمی جنگ کا خطرہ مول لینے‘‘ کا الزام عائد کیا تھا۔

ادھر روس نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے والے مغربی ممالک دراصل جنگ میں براہِ راست شریک ہیں، اور ماسکو نے پائیدار جنگ بندی کے لیے غیر ملکی فوجی امداد کے خاتمے کو اپنی بنیادی شرط قرار دیا ہے۔














