غزہ میں قحط: اقوامِ متحدہ کی قراردادیں اور انصاف کا دیوالیہ پن

اتوار 24 اگست 2025
author image

طلحہ الکشمیری

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

غزہ اس وقت دنیا کے سب سے بڑے انسانی المیوں میں سے ایک کا شکار ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اپنے اداروں کی رپورٹس کے مطابق 500,000 سے زائد لوگ بھوک کے دہانے پر ہیں اور یہ تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔

یہ کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک منظم محاصرہ ہے جس نے غذا، پانی اور ادویات تک رسائی کو ناممکن بنا دیا ہے۔ جب بچے بھوک سے بلک بلک کر جان دیتے ہیں اور بین الاقوامی اداروں کے پاس محض تشویش کا اظہار کرنے کے سوا کوئی الفاظ باقی نہیں رہتے تو یہ ایک ریاست یا ایک خطے کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا المیہ ہے۔

یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ اسرائیل کا قیام خود اقوامِ متحدہ کی ایک قرارداد کے تحت ہوا۔ 29 نومبر 1947 کو جنرل اسمبلی نے قرارداد 181 منظور کی جس نے فلسطین کو تقسیم کر کے ایک یہودی ریاست کے قیام کی بنیاد ڈالی۔ یروشلم کو بین الاقوامی حیثیت دی گئی مگر عملی طور پر لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کر دیا گیا۔ اس سانحے کو فلسطینی (النكبہ) یعنی تباہی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ تاریخ کی یہ ستم ظریفی ہے کہ انصاف کے نام پر بننے والے ادارے نے خود ایک قوم کو بنیادی حقِ خود ارادیت سے محروم کر کے دوسری قوم کی ریاست قائم کر دی۔

بعد ازاں فلسطینی عوام کے لیے بھی قراردادوں کی ایک لمبی فہرست سامنے آئی۔ قرارداد 194 (1948) نے پناہ گزینوں کے حقِ واپسی کو تسلیم کیا۔ قرارداد 242 (1967) نے عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل سے مقبوضہ علاقوں سے انخلا کا مطالبہ کیا۔ قرارداد 338 (1973) نے امن مذاکرات پر زور دیا۔ مگر یہ سب قراردادیں محض کاغذی بیانات رہ گئیں۔ وہی ادارہ جس نے ایک قرارداد سے اسرائیل کو وجود بخشا، وہی فلسطینیوں کے حق میں منظور شدہ قراردادوں پر عمل درآمد کرانے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ یہ ایک واضح تضاد ہے جس نے عالمی انصاف کے چہرے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا استعمال اس ناکامی کی سب سے بڑی وجہ رہا ہے۔ امریکا نے درجنوں بار اسرائیل کے خلاف پیش کی جانے والی قراردادوں کو ویٹو کر کے ناکارہ بنا دیا۔ دنیا نے دیکھا کہ جب کویت پر عراق نے قبضہ کیا تو چند دنوں میں قراردادیں منظور ہوئیں، عالمی فوجی اتحاد بنا اور کارروائی کر کے قبضہ ختم کرا دیا گیا۔ لیکن فلسطین کے معاملے میں 7 دہائیاں گزر گئیں اور قراردادیں محض آرکائیوز میں دھول چاٹتی رہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انصاف کا ترازو طاقت کے بوجھ تلے دب کر بے وزن ہو گیا۔

آج غزہ میں قحط اس بات کا ثبوت ہے کہ بھوک کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون اور جنیوا کنونشنز کی صریح خلاف ورزی ہے جو شہریوں کو اجتماعی سزا اور محاصرے سے تحفظ دیتے ہیں۔ مگر یہاں سب کچھ دنیا کے سامنے ہو رہا ہے اور کوئی روکنے والا نہیں۔ یہ قحط خاموشی کے ساتھ ہزاروں جانیں لے رہا ہے اور انسانیت کا امتحان بن گیا ہے۔

دنیا کے رویے میں دوہرا معیار بھی کھل کر سامنے آتا ہے۔ یوکرین پر حملے کے بعد مغربی دنیا نے غیر معمولی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ چند ہفتوں میں اربوں ڈالر کی امداد، فوجی سازوسامان اور سفارتی دباؤ فراہم کیا گیا۔ مگر جب بات فلسطین کی آتی ہے تو زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں اور قراردادیں محض سیاسی بیان بازی سے آگے نہیں بڑھ پاتیں۔ یہی تضاد عالمی ضمیر کے مردہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اگر انسانی حقوق واقعی رنگ، نسل اور مذہب سے بالاتر ہیں تو فلسطینی بچے کیوں استثنیٰ کے دائرے میں ہیں؟

غزہ کا بحران یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ کیا اقوامِ متحدہ اپنے موجودہ ڈھانچے کے ساتھ انصاف فراہم کر سکتی ہے؟ سلامتی کونسل کی تشکیل دوسری جنگ عظیم کے بعد کی گئی تھی، جب دنیا کا طاقت کا نقشہ بالکل مختلف تھا۔ آج تقریباً 80 برس بعد بھی وہی 5 مستقل ارکان ویٹو پاور کے ساتھ دنیا کی تقدیر کے فیصلے کر رہے ہیں۔ اس نظام نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ طاقتور کے لیے انصاف فوری اور کمزور کے لیے غیر یقینی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس ڈھانچے پر از سرِ نو غور کیا جائے اور ویٹو پاور کے اس استحصالی اختیار کو ختم یا محدود کیا جائے تاکہ انصاف کا پیمانہ سب کے لیے یکساں ہو۔

غزہ کا قحط محض ایک المیہ نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے۔ اس آئینے میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ عالمی اداروں کی قراردادیں کس طرح طاقتور کے لیے حکم اور کمزور کے لیے بے وقعت مشورہ بن جاتی ہیں۔ یہ انسانی تاریخ کا وہ لمحہ ہے جب ضمیر کو جاگنا چاہیے۔ اگر اقوامِ متحدہ اپنی قراردادوں کو صرف طاقتور کے حق میں نافذ کر کے کمزور کو بھوک اور موت کے حوالے کر دے تو اس ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہمیشہ باقی رہے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈاکٹر طلحہ الکشمیری اقوام متحدہ، پاک عرب تعلقات، انسانی حقوق، جنوبی ایشیا اور پاکستان سے متعلق امور پر حقائق پر مبنی تجزیاتی اور محققانہ تحریریں قلم بند کرتے ہیں، اردو، اور عربی زبان و ادب کے ساتھ گہری مناسبت رکھتے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سابق این سی پی رہنما میر ارشد الحق کی بی این پی میں شمولیت

سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹوکنائزیشن، وزیر خزانہ کی عالمی وفد سے ملاقات

کرکٹ بورڈ کو الٹی میٹم دینے کی بھارتی خبریں غلط اور غیر مستند ہیں، بنگلادیش

ایران کیخلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، آرمی چیف کا دشمنوں کو سخت انتباہ

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مودی کے خلاف پھر نعرے، احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا

ویڈیو

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

جعلی مقدمات قائم کرنے سے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں، میاں داؤد ایڈووکیٹ

عمران خان نے کہا تھا کہ ’فوج میری ہے اور میں فوج کا ہوں‘، شاندانہ گلزار

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟