غزہ اس وقت دنیا کے سب سے بڑے انسانی المیوں میں سے ایک کا شکار ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اپنے اداروں کی رپورٹس کے مطابق 500,000 سے زائد لوگ بھوک کے دہانے پر ہیں اور یہ تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔
یہ کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک منظم محاصرہ ہے جس نے غذا، پانی اور ادویات تک رسائی کو ناممکن بنا دیا ہے۔ جب بچے بھوک سے بلک بلک کر جان دیتے ہیں اور بین الاقوامی اداروں کے پاس محض تشویش کا اظہار کرنے کے سوا کوئی الفاظ باقی نہیں رہتے تو یہ ایک ریاست یا ایک خطے کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا المیہ ہے۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ اسرائیل کا قیام خود اقوامِ متحدہ کی ایک قرارداد کے تحت ہوا۔ 29 نومبر 1947 کو جنرل اسمبلی نے قرارداد 181 منظور کی جس نے فلسطین کو تقسیم کر کے ایک یہودی ریاست کے قیام کی بنیاد ڈالی۔ یروشلم کو بین الاقوامی حیثیت دی گئی مگر عملی طور پر لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کر دیا گیا۔ اس سانحے کو فلسطینی (النكبہ) یعنی تباہی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ تاریخ کی یہ ستم ظریفی ہے کہ انصاف کے نام پر بننے والے ادارے نے خود ایک قوم کو بنیادی حقِ خود ارادیت سے محروم کر کے دوسری قوم کی ریاست قائم کر دی۔
بعد ازاں فلسطینی عوام کے لیے بھی قراردادوں کی ایک لمبی فہرست سامنے آئی۔ قرارداد 194 (1948) نے پناہ گزینوں کے حقِ واپسی کو تسلیم کیا۔ قرارداد 242 (1967) نے عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل سے مقبوضہ علاقوں سے انخلا کا مطالبہ کیا۔ قرارداد 338 (1973) نے امن مذاکرات پر زور دیا۔ مگر یہ سب قراردادیں محض کاغذی بیانات رہ گئیں۔ وہی ادارہ جس نے ایک قرارداد سے اسرائیل کو وجود بخشا، وہی فلسطینیوں کے حق میں منظور شدہ قراردادوں پر عمل درآمد کرانے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ یہ ایک واضح تضاد ہے جس نے عالمی انصاف کے چہرے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا استعمال اس ناکامی کی سب سے بڑی وجہ رہا ہے۔ امریکا نے درجنوں بار اسرائیل کے خلاف پیش کی جانے والی قراردادوں کو ویٹو کر کے ناکارہ بنا دیا۔ دنیا نے دیکھا کہ جب کویت پر عراق نے قبضہ کیا تو چند دنوں میں قراردادیں منظور ہوئیں، عالمی فوجی اتحاد بنا اور کارروائی کر کے قبضہ ختم کرا دیا گیا۔ لیکن فلسطین کے معاملے میں 7 دہائیاں گزر گئیں اور قراردادیں محض آرکائیوز میں دھول چاٹتی رہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انصاف کا ترازو طاقت کے بوجھ تلے دب کر بے وزن ہو گیا۔
آج غزہ میں قحط اس بات کا ثبوت ہے کہ بھوک کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون اور جنیوا کنونشنز کی صریح خلاف ورزی ہے جو شہریوں کو اجتماعی سزا اور محاصرے سے تحفظ دیتے ہیں۔ مگر یہاں سب کچھ دنیا کے سامنے ہو رہا ہے اور کوئی روکنے والا نہیں۔ یہ قحط خاموشی کے ساتھ ہزاروں جانیں لے رہا ہے اور انسانیت کا امتحان بن گیا ہے۔
دنیا کے رویے میں دوہرا معیار بھی کھل کر سامنے آتا ہے۔ یوکرین پر حملے کے بعد مغربی دنیا نے غیر معمولی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ چند ہفتوں میں اربوں ڈالر کی امداد، فوجی سازوسامان اور سفارتی دباؤ فراہم کیا گیا۔ مگر جب بات فلسطین کی آتی ہے تو زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں اور قراردادیں محض سیاسی بیان بازی سے آگے نہیں بڑھ پاتیں۔ یہی تضاد عالمی ضمیر کے مردہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اگر انسانی حقوق واقعی رنگ، نسل اور مذہب سے بالاتر ہیں تو فلسطینی بچے کیوں استثنیٰ کے دائرے میں ہیں؟
غزہ کا بحران یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ کیا اقوامِ متحدہ اپنے موجودہ ڈھانچے کے ساتھ انصاف فراہم کر سکتی ہے؟ سلامتی کونسل کی تشکیل دوسری جنگ عظیم کے بعد کی گئی تھی، جب دنیا کا طاقت کا نقشہ بالکل مختلف تھا۔ آج تقریباً 80 برس بعد بھی وہی 5 مستقل ارکان ویٹو پاور کے ساتھ دنیا کی تقدیر کے فیصلے کر رہے ہیں۔ اس نظام نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ طاقتور کے لیے انصاف فوری اور کمزور کے لیے غیر یقینی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس ڈھانچے پر از سرِ نو غور کیا جائے اور ویٹو پاور کے اس استحصالی اختیار کو ختم یا محدود کیا جائے تاکہ انصاف کا پیمانہ سب کے لیے یکساں ہو۔
غزہ کا قحط محض ایک المیہ نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے۔ اس آئینے میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ عالمی اداروں کی قراردادیں کس طرح طاقتور کے لیے حکم اور کمزور کے لیے بے وقعت مشورہ بن جاتی ہیں۔ یہ انسانی تاریخ کا وہ لمحہ ہے جب ضمیر کو جاگنا چاہیے۔ اگر اقوامِ متحدہ اپنی قراردادوں کو صرف طاقتور کے حق میں نافذ کر کے کمزور کو بھوک اور موت کے حوالے کر دے تو اس ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہمیشہ باقی رہے گا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














