کیا ٹویوٹا ریوو اور فورچونر کی قیمت میں 60 فیصد تک ٹیکس شامل ہے؟

منگل 26 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں کی قیمتوں دیگر ممالک کی نسبت کئی گنا زیادہ ہے، گزشتہ 10 سالوں میں ایک ہی گاڑی کی قیمت 3 گنا تک بڑھ گئی ہے، پیداواری لاگت میں اضافے کے علاوہ اس میں بھاری ٹیکسز بھی شامل ہیں جس وجہ سے قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو گیا ہے۔

سی ای او ٹویوٹا موٹرز علی اصغر جمالی نے سینیٹ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں بتایا کہ پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں کی زائد قیمتوں کی ایک بڑی وجہ بھاری ٹیکسز ہیں، گاڑی کی مجموعی قیمت میں 30 سے 60 فیصد ٹیکس کی رقم شامل ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انڈس موٹر کمپنی کی جانب سے قومی ہیرو ارشد ندیم کو ٹویوٹا فارچیونر جی آر ایس کا تحفہ

اس وقت ٹویوٹا ریوو ڈالے کی قیمت ایک کروڑ 88 لاکھ روپے ہے ، جس میں حکومت کی جانب سے ایک کروڑ 11 لاکھ روپے اور ٹویوٹا فورچونرکی کل قیمت 2 کروڑ 44 لاکھ روپے میں ایک کروڑ 48 لاکھ روپے ٹیکس جبکہ ٹویوٹا کرولا کی کل قیمت میں 35 لاکھ روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔

سی ای او ٹویوٹا موٹرز نے کہا کہ حکومت نے اب 5 سال پرانی گاڑی کی امپورٹ کی اجازت دی ہے حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل ہے، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو 30 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہمارے لیے مشکل ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں: ٹویوٹا یارس کا بھی نیا ماڈل پاکستان میں لانچ، گاڑی میں کونسے نئے فیچرز شامل ہیں؟

جاپان سے تعلق رکھنے والے پاک سوزوکی کے سی ای او ہروشی کاوامورا نے کمیٹی کو بتایا کہ پاک سوزوکی گاڑیوں کے پرزہ جات کی مقامی طور پر تیاری کو بڑھانے کے لیے 40 ارب روپے مالیت کی سرمایہ کاری کی خواہاں ہے۔

ان کے مطابق حکومت کی گاڑیوں سے متعلق نئی ٹیرف پالیسی سے گاڑیوں کی صنعت تباہ ہوگئی ہے، اب سوزوکی کے لیے زیادہ فائدہ مند یہ ہے کہ وہ جاپان سے گاڑی امپورٹ کرکے یہاں فروخت کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp