امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج وائٹ ہاؤس میں غزہ کی جنگ کے بعد کے منصوبوں پر ایک بڑے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ یہ بات ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے منگل کے روز بتائی۔
اسٹیو وٹکوف نے فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ صدر کی سربراہی میں ایک بڑا اجلاس ہو رہا ہے، یہ ایک جامع منصوبہ ہے جسے حتمی شکل دی جائے گی، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
یہ بھی پڑھیں:’غزہ جنگ بند کروائیں‘، اسرائیل کے 600 سے زائد سابق سیکیورٹی عہدیداروں کا امریکی صدر ٹرمپ کو خط
یہ سوال پوچھے جانے پر کہ کیا واقعی غزہ کے مستقبل کے لیے کوئی منصوبہ موجود ہے، اسٹیو وٹکوف نے صرف اتنا کہا کہ لوگ جلد ہی دیکھیں گے کہ یہ منصوبہ کس قدر ’مضبوط اور نیک نیتی پر مبنی‘ ہے۔
خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے رواں برس کے آغاز میں ایک متنازع تجویز دی تھی جس نے دنیا کو حیران کر دیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ امریکا کو غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھال لینا چاہیے، وہاں سے 2 ملین فلسطینیوں کو نکال کر ساحلی علاقے کو ترقی دے کر ’مشرقِ وسطیٰ کے ریویئرا‘ میں تبدیل کر دینا چاہیے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کرنا چاہتے ہیں، ترجمان امریکی محکمہ خارجہ
اس تجویز کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے تو سراہا تھا مگر یورپی اور عرب ممالک کی جانب سے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق، اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک غزہ میں کم از کم 62 ہزار 800 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔