اٹلانٹک تھنک ٹینک میں عمران خان کے ٹرائل کے حوالے سے میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، اسحاق ڈار

جمعہ 29 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان عدلیہ پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں ہے، اٹلانٹک تھنک ٹینک میں عمران خان کے ٹرائل کے حوالے سے میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا جس کی بعد میں وضاحت کی گئی، میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، اگر کسی کو انگریزی نہیں آتی تو وہ سیکھ لے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی مصری اور الجزائری وزرائے خارجہ سے ملاقات

وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ  21 سے 28 جولائی ہم نے نیویارک کا دورہ کیا، جولائی کے مہینے میں پاس سلامتی کونسل کی صدارت تھی، ہماری کامیابی یہ رہی کہ ملٹی لیٹرلزم اور تنازعات کے پر امن حل کے لیے ہماری پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوئی، اس قرار داد کا حوالہ تھائی لینڈ، کمبوڈیا جنگ کے خاتمے کے لیے بلائے گئے اجلاس میں بھی دیا گیا۔

رواں سال جولائی میں پاکستان کے پاس اقوام متحدہ کی صدارت تھی، جس دوران مسئلہ فلسطین پر بھرپور موقف اپنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سے ملاقات کی، جبکہ واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات ہوئی جو بہت کامیاب رہی۔ سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران 3 اہم میٹنگز ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی وفد کی ڈھاکہ میں اسحاق ڈار سے ملاقات

انہوں نے بتایا کہ او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقاتیں ہوئیں اور پاکستان کے دور صدارت میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی سالوں بعد فلسطین کے حوالے سے سلامتی کونسل میں پاکستان کی قرارداد منظور ہوئی جسے اب مختلف فورمز پر بطور حوالہ پیش کیا جارہا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ فلسطین کانفرنس میں غزہ کے مسئلے پر بھی بھرپور آواز اٹھائی گئی۔ اپنے دورے کے دوران پاکستانی برادری، تاجروں اور صحافیوں سے بھی ملاقات کی گئی جبکہ مشرق وسطیٰ اور ایران کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

نائب وزیر اعظم کے مطابق کابل اور ڈھاکہ کے دورے بھی کامیاب رہے، برطانیہ میں سندھ طاس معاہدے کے ماہرین اور کشمیری رہنماؤں سے بھی ملاقات کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ایئر لائن کی مانچسٹر کے لیے براہ راست پرواز رواں سال ستمبر تک شروع ہو جائے گی جبکہ برطانیہ میں پاکستانیوں کے لیے پاسپورٹ کا ون ونڈو آپریشن بھی شروع کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کی سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات، غزہ میں مستقل جنگ بندی پر زور

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی عدلیہ پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں ہے، اور عدلیہ سے متعلق ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو انگریزی نہیں آتی تو وہ سیکھ لے۔

نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ کابل میں چین،پاکستان کا سہ فریقی اجلاس ہوا، اجلاس میں افغان وزیر خارجہ سے دوطرفہ ملاقات بھی ہوئی ، چین اور پاکستان کو ٹی ٹی پی سے متعلق تحفظات تھے، پاکستان خطے میں بڑے منصوبوں پر چین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعاون بڑھا رہا ہے جبکہ حکومت ملکی مفاد میں تمام اہم امور پر فعال کردار ادا کر رہی ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ ژی سے ملاقات کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ قراقرم ہائی وے، ایم ایل ون اور سی پیک ٹو کے منصوبوں پر بات ہوئی، ٹرانس افغان ریلوے منصوبے کے لیے چین سے فنانسنگ کی تجویز دی ہے تاکہ سی پیک کو افغانستان تک توسیع دی جا سکے، جس سے چین نے اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سابق بنگالی وزیراعظم خالدہ ضیا سے ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو

ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ امریکا اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوں۔ چین پاکستان کے ساتھ خصوصی اقتصادی زونز سمیت تمام منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔

بنگلہ دیش کے دورے سے متعلق انہوں نے کہا کہ بھارتی فضائی حدود بند ہونے کی وجہ سے سفر میں 7 گھنٹے لگے۔ وہاں بی این پی، جماعتِ اسلامی اور نئی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں، سب پاکستان کے حق میں بات کر رہے تھے۔ چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس سے ملاقات بھی خوشگوار رہی اور میرے دورے کو بھرپور میڈیا کوریج ملی۔ ہم نے اتفاق کیا کہ سارک کو فعال بنایا جائے، اگر ایک ملک رکاوٹ بنتا ہے تو دوسرے ممالک کے ساتھ آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ چین اور بنگلہ دیش کے ساتھ سہ فریقی اتحاد پر سری لنکا کو شامل کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ او آئی سی کا ہنگامی اجلاس 25 اگست کو میری مصروفیت کے باعث رکھا گیا، اجلاس میں گریٹر اسرائیل منصوبے کو مسترد کیا گیا اور جنگ بندی، انسانی امداد اور انروا کی سرگرمیوں پر زور دیا گیا۔ پاکستان کی پالیسی ہے کہ فلسطین کی سرحدیں 1967 کی حدود تک بحال کی جائیں اور القدس الشریف کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار سہ فریقی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے کابل پہنچ گئے

تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت ہمارے مطالبات سے انکار نہیں کرتی بلکہ بتا رہی ہے کہ ٹی ٹی پی کے ہمدردوں کو نظامِ حکومت سے ہٹا دیا گیا ہے اور 700 چیک پوسٹس ختم کردی گئی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ وانگ ژی کا حالیہ دورہ صرف سرحدی معاملات سے متعلق تھا۔ سندھ طاس معاہدے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانی کا ایک قطرہ بھی ضائع یا منتقل ہونے نہیں دیں گے۔ امریکا میں سیکرٹری روبیو کو یاد دلایا کہ ان کے کہنے پر ہم نے جنگ بندی کی تھی جس پر انہوں نے جلد پاکستان اور بھارت کی ملاقات کرانے کا عندیہ دیا۔

افغان حکومت کے ردعمل پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فضائی حملے کے بعد پاکستان کو ڈی مارش کیا گیا جو معمول کی کارروائی ہے۔ سہ فریقی مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری نہ کرنے پر انہوں نے کہا کہ کاراباخ معاملہ حل ہو چکا ہے اور آرمینیا و آذربائیجان کے تعلقات قائم ہو گئے ہیں اس لیے ہم بھی تعلقات قائم کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں سیلاب متاثرین کی بحالی میں بھرپور تعاون فراہم کرے گی، اسحاق ڈار

بھارتی نیوی سربراہ کے بیان پر اسحاق ڈار نے کہا کہ اس پر جواب دینا مناسب نہیں، لیکن پہلے بھی بھارت کو شکست دی اور اب بھی دیں گے۔ اگر جنگوں میں ہی پڑے رہے تو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر کا یہ کہنا حیران کن ہے کہ ہم بنگلہ دیش کے ذریعے بھارت پر حملے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سارک کی ناکامی کی وجہ بھارتی ہٹ دھرمی ہے۔ ایران اور اسرائیل کی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے بھرپور کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp