گلگت بلتستان: سیلاب کے بعد امدادی سرگرمیاں جاری، ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مریض گلگت منتقل

جمعہ 29 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں گزشتہ دنوں آنے والے اچانک اور تباہ کن سیلاب نے گاؤں تالی داس کو مکمل طور پر ملیامیٹ کر دیا تھا جس کے بعد متاثرین کی امداد کا سلسلہ جاری ہے۔

متاثرین کو سرکاری اور غیرسرکاری اداروں کی جانب سے محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان کی رہائش کے لیے عارضی کیمپ قائم کیا گیا ہے جہاں سرکاری محکمے اور فلاحی تنظیمیں ان کی مدد کررہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: غذر گلگت بلتستان: سیلاب کے دوران چرواہے کی بروقت اطلاع سے سینکڑوں زندگیاں کیسے بچ گئیں؟

متاثرہ علاقوں تک سڑکوں کی بندش اور زمینی رسائی کے مسائل کے پیشِ نظر ہیلی کاپٹر سروس کے ذریعے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ آغاخان فاؤنڈیشن کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اب تک 200 فوڈ پیکجز مختلف دیہاتوں میں پہنچائے گئے ہیں جبکہ 50 کے قریب مریضوں، بزرگوں اور طالب علموں کو متعدد پروازوں کے ذریعے گلگت منتقل کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ علاقے میں بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے آغاخان ہیلتھ سروس پاکستان نے متاثرین کے کیمپ میں ایک ماہر امراضِ نسواں (گائناکالوجسٹ) سمیت طبی عملہ بھی تعینات کردیا ہے تاکہ مقامی آبادی کو فوری صحت کی سہولت فراہم کی جاسکے۔

وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے گزشتہ دنوں تالی داس کے قریب کیمپ کا دورہ کرکے متاثرین سے اظہار ہمدردی کیا۔ انہوں نے سرکاری محکموں کو متاثرہ علاقوں میں خدمات کی فوری فراہمی کی بھی ہدایت کی۔

ضلع غذر کے ہی سیلاب سے متاثرہ علاقہ چٹورکھنڈ کے دورے کے موقع پرانہوں نے سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور ان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر جاں بحق افراد کے لواحقین کو وزیراعظم پاکستان کی جانب سے 20، 20 لاکھ روپے کے امدادی چیک بھی دیے۔

غذر گلگت بلتستان: رضاکار متاثرہ آبادی میں امدادی سامان تقسیم کررہے ہیں

یاد رہے کہ تالی داس میں گزشتہ دنوں سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 30 مکانات مکمل تباہ ہوئے جبکہ 100 سے زائد گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ علاقے کی تمام دکانیں اور دیگر املاک بھی ملبے تلے دب گئیں۔

اس سیلاب نے دریائے غذر پر بند باندھ دیا جس سے تقریباً 7 کلومیٹر طویل جھیل وجود میں آگئی۔ اس جھیل نے آس پاس مزید 330 گھرانوں کو متاثر کیا جبکہ مکانات، زرعی زمینیں اور غذر-شندور روڈ کے کئی حصے زیر آب آگئے، جس کے باعث اپر گوپس، پھندڑ اور یاسین کا زمینی رابطہ کٹ گیا۔

یہ بھی پڑھیے: گلگت بلتستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں: 9 افراد جاں بحق، درجنوں لاپتا

اس سے قبل جولائی اور اگست کے مہینے میں گلگت بلتستان میں دیامر، چٹورکھنڈ، بلتستان اور ہنزہ کے متعدد مقامات پر بھی سیلاب آئے اور مقامی آبادی اور سیاحوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

اس عرصے میں قدرتی آفات سے جُڑے مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد جان سے گئے جن میں دنیور گلگت میں آبپاشی کی نہر کی مرمت کرنے کے دوران حادثے میں جاں بحق ہونے والے 8 رضاکار، چٹورکھنڈ میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے ایک ہی گھر کے 5 افراد اور دیامر کے تھک نالہ میں سیلاب کی نذر ہونے والے متعدد سیاح بھی شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp