وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے دریائے سندھ میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر صوبائی محکموں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں سیلاب سے 30 ہلاکتیں اور لاکھوں متاثرین ہیں، مریم اورنگزیب
انہوں نے کہا کہ دریا کے اطراف بند، نہروں اور بیراجوں کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
ترجمان وزیر اعلیٰ ہاؤس کے مطابق وزیر آبپاشی جام خان شورو نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 83 ہزار اور اخراج 3 لاکھ 50 ہزار کیوسک ہے۔

سکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 13 ہزار اور اخراج 2 لاکھ 59 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا جبکہ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 64 ہزار اور اخراج 2 لاکھ 33 ہزار کیوسک ہے۔
یہ بھی پڑھیں:موسلادھار بارشوں سے ملک کے مختلف علاقوں میں طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا خطرہ
حکام کے مطابق بیراجوں کی موجودہ صورت حال قابو میں ہے تاہم پانی کی سطح میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ کچے کے علاقوں میں رہنے والی آبادی کو بروقت آگاہ کریں اور نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھیں۔

انہوں نے وزرا اور انتظامیہ کو تاکید کی کہ وہ خود فیلڈ میں موجود رہ کر حفاظتی اقدامات کی نگرانی کریں۔
دریائے سندھ میں پانی کی صورتحال پر یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے کے کئی نشیبی علاقے بارشوں کے باعث پہلے ہی متاثر ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر پانی کی آمد میں مسلسل اضافہ ہوا تو درمیانے درجے کا سیلاب آسکتا ہے۔














