یورپ میں کھانے کی ترسیل کے میدان میں ڈرونز بڑی تبدیلی لارہے ہیں، خاص طور پر ان دور دراز جزیروں پر جہاں گاڑی یا بائیک کے ذریعے ڈیلیوری تقریباً ناممکن ہے۔
ناروے کی اسٹارٹ اپ کمپنی ’ایویانٹ‘ (Aviant) نے سویڈن کے جزیرے ویرمدو (Värmdö) سے خطے کی پہلی ڈرون فوڈ ڈیلیوری سروس کا آغاز کیا ہے۔ رواں سال فروری سے ویرمدو کے مرکزی قصبے گستاوبرگ اور قریبی علاقوں کے رہائشی بَسٹَرد برگرز (Bastard Burgers) سے تیار شدہ کھانے براہِ راست ڈرون کے ذریعے اپنے گھروں پر منگوا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں ٹیکنالوجی کا جادو، آسمان میں 5 ہزار ڈرونز کا رقص
کمپنی کے مطابق ڈرون کے ذریعے ڈیلیوری کی لاگت کار یا بائیک سروس کے برابر ہے، کیونکہ ڈرائیور کے اخراجات شامل نہیں ہوتے۔ اس وقت یہ منصوبہ ’بیٹا فیز‘ میں ہے، اور ہفتہ وار صرف 10 آرڈرز ڈرونز کے ذریعے پہنچائے جا رہے ہیں، تاہم کارکردگی بہتر بنانے پر کام جاری ہے۔
ایویانٹ نے آئندہ دو برسوں میں اسکینڈینیویا کے 40 مختلف مقامات پر اس سروس کو پھیلانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ کمپنی کینیڈا میں بھی اس ماڈل کو متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے، جہاں 52 ہزار سے زائد جزیرے موجود ہیں۔ اسی طرح امریکا کے شمال مشرقی خطے کو بھی ڈرون سروس کے لیے موزوں قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈرونز یا اڑن طشتریاں، نیو جرسی کی فضا میں کون سی پراسرار چیزیں اڑ رہی ہیں؟
یورپ میں دیگر تجربات بھی ہو چکے ہیں۔ برطانیہ کی کمپنی ’اسکائی پورٹس‘ (Skyports) نے 2022 میں اورکنی آئی لینڈز میں اسکول کے بچوں کو ڈرون کے ذریعے کھانا فراہم کیا تھا، جب کہ جرمن کمپنی ’ونگ کاپٹر‘ (Wingcopter) نے 2023 میں دیہی علاقوں میں اشیائے ضرورت پہنچانے کا منصوبہ حکومت کے تعاون سے مکمل کیا۔
ادھر چین کے مشرقی صوبے ژی جیانگ (Zhejiang) میں مقامی حکومت بزرگ دیہاتیوں کو گرم کھانا پہنچانے کے لیے ڈرون ڈیلیوری کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔














