بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے کولکتہ جانے والی انڈی گو کی پرواز میں اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب ایک نشے میں دھت وکیل نے مبینہ طور پر مذہبی نعرے لگائے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، مذکورہ مسافرنے ساتھی مسافروں کو بھی ’جے شری رام‘ کے نعرے لگانے پر اکسایا بعدازاں اس کا رویہ عملے کے ساتھ تلخ کلامی تک جا پہنچا۔
ایئرلائن کے بیان کے مطابق، متعلقہ مسافر جو سیٹ نمبر ڈی31 پربیٹھا تھا، عملے کے ساتھ بدتمیزی کر رہا تھا اور نشے کی حالت میں باقی مسافروں کو بھی پریشان کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی بینک میں بیف پارٹی، ملازمین کا انوکھا احتجاج
رپورٹس کے مطابق وکیل کے پاس مبینہ طور پر ایک بوتل میں شراب بھی تھی جسے وہ اسے سوفٹ ڈرنک ظاہر کر رہا تھا، تاہم جب ایک ایئرلائن عملے کی خاتون رکن نے اس پر سوال اٹھایا تو اس نے ان کے ساتھ بھی نامناسب گفتگو کی۔
انڈی گو نے کہا ہے کہ 1 ستمبر 2025 کو دہلی سے کولکتہ جانے والی فلائٹ میں مسافر کی جانب سے بدتمیزی کا واقعہ پیش آیا، ایئرلائن کے مطابق ایک وکیل، جو نشے کی حالت میں تھا، عملے کے ساتھ بدسلوکی کرتا رہا اور دیگر مسافروں کو بھی پریشان کیا۔
ایئرلائن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ طے شدہ پروٹوکول کے مطابق اس مسافر کوبدتمیز قرار دے کر کولکتہ پہنچنے پر سیکیورٹی کے حوالے کر دیا گیا، اس کے خلاف متعلقہ حکام کو باضابطہ شکایت بھی درج کرا دی گئی۔
مزید پڑھیں:مشہور بھارتی اداکارہ کینسر میں مبتلا ہوکر انتقال کرگئیں
انڈی گو نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا ہراسانی کے خلاف ’زیرو ٹالرنس پالیسی‘ رکھتا ہے اور اپنے مسافروں اور عملے کے لیے محفوظ اور باعزت ماحول یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
کولکتہ کے نیتاجی سبھاش چندر بوس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مسافر کو پولیس کے حوالے کرنے کے ساتھ ایئرلائن نے باضابطہ ایف آئی آر بھی درج کرا دی۔
تاہم، وکیل نے جوابی شکایت دائر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے عملے کی جانب سے ہراساں کیا گیا۔
اس نے یہ بھی کہا کہ اس کے پاس جو بوتل تھی وہ بیئر کی تھی اور اس نے دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے خریداری کی رسید بھی دکھائی۔













