نیویارک کی میئر شپ: ٹرمپ کو ظہران ممدانی کی جیت کیوں یقینی نظر آنے لگی؟

جمعہ 5 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر نیویارک سٹی کے میئر کے انتخابات میں 3 میں سے 2 بڑے امیدوار دستبردار نہ ہوئے تو ڈیموکریٹ ظہران ممدا نی اگلے میئر بن سکتے ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کون سے امیدواروں کو دستبردار دیکھنا چاہتے ہیں۔

جمعرات کی شب وائٹ ہاؤس میں ٹیکنالوجی ایگزیکٹوز کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا انہوں نے کسی امیدوار کو دستبردار ہونے کا کہا ہے، تو ٹرمپ نے کہا: ’نہیں‘ کہا، مگر ساتھ ہی خواہش ظاہر کی کہ ایسا ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: نیویارک کے میئر امیدوار ظہران ممدانی کو ابتدائی جیت کے بعد اسلاموفوبیا کا سامنا


انہوں نے کہا ’مجھے نہیں لگتا آپ ون ٹو ون دوڑ کے بغیر جیت سکتے ہیں۔ اور کسی طرح اسے (ممدانی کو) تھوڑی سی برتری مل گئی ہے۔ مجھے نہیں معلوم یہ کیسے ہوا۔‘

ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں، 2 امیدوار پیچھے ہٹ جائیں تاکہ یہ ایک بمقابلہ ایک کا مقابلہ ہو، اور میرا خیال ہے کہ پھر یہ ریس جیتی جا سکتی ہے۔

ظہران ممدانی کی زبردست

33 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ ظہران ممدانی جون میں ڈیموکریٹک پرائمری میں سابق گورنر اینڈریو کومو کو واضح شکست دے کر اس مقابلے میں سب سے مضبوط امیدوار بن گئے ہیں۔ تاہم میدان میں اب بھی کومو آزاد حیثیت سے موجود ہیں، جبکہ موجودہ میئر ایرک ایڈمز اور ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا بھی انتخابی میدان میں ہیں۔

ایڈمز پر دباؤ

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں نے حالیہ ہفتوں میں ایرک ایڈمز کے قریب حلقوں سے رابطہ کیا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ کیا وہ دوبارہ انتخابی مہم چھوڑ کر کوئی وفاقی عہدہ قبول کرنے پر راضی ہوں گے۔ ایڈمز نے فلوریڈا کے دورے پر ٹرمپ کے قریبی نمائندے اور سابق رئیل اسٹیٹ ڈویلپر اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کی، لیکن انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ وہ مقابلے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے نیویارک میئر کے لیے پہلے مسلمان امیدوار ظہران ممدانی کون ہیں؟

ایڈمز نے کہا ’لوگ شور مچاتے ہیں یا دباؤ ڈالتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ہار مان لیں۔ میں ایسا نہیں کرتا۔‘

کومو اور سلیوا کے بیانات

کومو نے ایڈمز پر زور دیا کہ وہ ریس سے نکل جائیں، ان سے کہا گیا کہ اگر وہ بھی سمجھتے ہیں کہ ممدانی خطرہ ہیں تو وہ مضبوط ترین امیدوار کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔

دوسری جانب ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا نے کہا کہ وہ کسی صورت مقابلے سے نہیں نکلیں گے، انہوں نے کہا کہ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ اگر ایڈمز دستبردار ہوئے تو ان کے ووٹر کومو کے پاس چلے جائیں گے۔ ایسا بالکل نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا ’میں یہ 9,852ویں بار کہہ رہا ہوں کہ میں دستبردار نہیں ہو رہا۔ میں 4 نومبر تک اس دوڑ میں رہوں گا۔‘

یہ بھی پڑھیں: بھارتی دائیں بازو کی قوتیں ظہران ممدانی کی کامیابی پر برہم کیوں ؟

ایرک ایڈمز کی مہم کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب گزشتہ سال ان پر بدعنوانی کے الزامات لگے۔ بعد ازاں ان کے ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات نے نیویارک جیسے لبرل شہر کے ڈیموکریٹس کو مزید ناراض کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp