وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کی ہر ممکن معاونت کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کا بروقت انخلاء اور امدادی سرگرمیوں کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی یقینی بنائی جائے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نقصانات اور جاری امدادی و بحالی سرگرمیوں پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا سیلاب متاثرین کے لیے جامع بحالی پیکیج تیار کرنے کا حکم
اجلاس میں وفاقی وزراء، چیئرمین این ڈی ایم اے، چیئرمین نادرا اور اعلیٰ حکام شریک ہوئے جبکہ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلابی ریلہ جنوبی پنجاب میں داخل ہو چکا ہے اور جلد پنجند سے گزرے گا۔ انتظامیہ، پاک فوج اور ریسکیو ادارے سیلابی ریلے کو بغیر کسی بند کو نقصان پہنچائے گزارنے کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ سرگرم ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک کے مختلف حصوں میں بجلی کے متاثرہ نظام کا 80 فیصد بحال کیا جا چکا ہے جبکہ پُلوں اور شاہراہوں کی مرمت کے بعد ٹریفک بحال ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں سیلاب متاثرین کے لیے ٹینٹ سٹی اور ریلیف کیمپ قائم
اب تک 20 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا اور 4 ہزار سے زیادہ پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ متاثرین کے لیے 6 ہزار 300 ٹن سے زائد امدادی سامان پہنچایا جا چکا ہے جبکہ 2 ہزار 400 سے زائد میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایسے متاثرین جو نادرا کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں، ان تک مالی معاونت پہنچانے کے لیے کمیٹی قائم کی جائے۔
مزید پڑھیں: پنجاب: تاریخ میں پہلی بار سیلاب متاثرین کی نشاندہی کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کا کامیاب استعمال
انہوں نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کو آئندہ مون سون کے لیے ابھی سے تیاری کرنے اور دو ہفتوں میں جامع لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔
شہباز شریف نے این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز، پاک فوج اور دیگر وفاقی و صوبائی اداروں کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ متاثرین کی مکمل بحالی تک حکومت صوبوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی۔













