ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیلاب متاثرین کی نشاندہی کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کا کامیاب استعمال کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے بھر میں تھرمل امیجنگ ڈرون کیمروں کے ذریعے سیلابی پانی میں محصور افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے جس میں ڈرون ٹیکنالوجی کا بھی استعمال ہورہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ہوائی کے جزیروں میں ڈرونز کے ذریعے ہزاروں مچھروں کی کیوں برسائی جارہی ہے؟
سرکاری ذرائع کے مطابق مختلف شہروں میں تھرمل امیجنگ ڈرونز کی مدد سے دشوار گزار اور دورافتادہ علاقوں میں متاثرین کو کامیابی سے تلاش کیا گیا جس کے بعد ریسکیو آپریشن انجام دیا گیا۔
جھنگ کے علاقے سیمی پل بائی پاس، سرگودھا روڈ اور قریبی دیہات میں ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے سیلابی ریلے میں گھرے افراد اور مویشیوں کی نشاندہی کی گئی۔ تھرمل کیمروں نے 5 افراد اور ان کے مویشیوں کی لوکیشن ٹریس کی جس پر ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر وہاں پہنچ گئیں اور تمام افراد کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں تاریخ ساز سیلاب، 20 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے، مریم اورنگزیب
ادھر چشتیاں کی دریائی بیلٹ میں بھی متاثرین کی تلاش کے لیے ڈرون کیمروں کا استعمال کیا جا رہا ہے جہاں ریسکیو بوٹس کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔ اسی طرح بہاولنگر کی دریائی پٹی میں بھی تھرمل امیجنگ ڈرون کیمروں کے ذریعے سیلابی پانی میں گھرے افراد اور مال مویشیوں کی نشاندہی کی گئی۔
محکمہ ریسکیو کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال سے مشکل اور دور دراز علاقوں میں متاثرین تک فوری رسائی ممکن ہوگئی ہے جس کے باعث ریسکیو آپریشن زیادہ مؤثر اور تیز تر بن گئے ہیں۔













