علیمہ خان پر انڈے، ظلم کی انتہا یا ابتدا؟

پیر 8 ستمبر 2025
author image

عمار مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کوئی بھی صاحبِ عقل اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان کی بہن علیمہ خان پر انڈے برسانے کے عمل کی  توصیف نہیں کر سکتا۔ یہ ایک شرمناک عمل تھا۔ قابل مذمت بات تھی۔ اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی  بہن کی سربازار توہین کا معاملہ تھا۔ اس پر سب کو افسوس  کا اظہار کرنا چاہیے۔ اس عمل کی تادیب ہونی چاہیے۔ ایسا کرنے والوں کو گرفتار کر کے انہیں سخت سزا دینی چاہیے تاکہ آئندہ کسی کو ایسی قبیح حرکت کی جرات نہ ہو۔ سیاست میں خواتین کو دھمکانے کا یہ رزیل طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔ یہ تو وہ بات ہو گئی جو سب کو کہنی چاہی مگر  کچھ بات وقت کی بھی ہو جائے۔

وقت بہت ظالم ہوتا ہے۔ ماضی کی غلطیوں سے اس طرح پردہ اٹھاتا ہے کہ آپ خود ششدر رہ جاتے ہیں۔ وقت لحاظ نہیں کرتا کہ اب آپ کس حال میں ہیں۔ آپ پر کیا گزر رہی ہے۔  حالات ایسے ہوں کہ  آپ پر ترس آ رہا ہو  مگر وقت ایسے میں ترس نہیں کھاتا بلکہ پوری شدت سے وہ سبق یاد کرواتا ہے جو آپ ہی نے لکھے تھے۔ وہ تاریخ دوہراتا ہے جس کے مورخ آپ تھے۔ وہ نوشتہ دیوار پڑھواتا ہے جس کے راقم آپ خود تھے۔

یہی ملک تھا، یہی لوگ تھے، یہی زمانہ تھا۔ چند برس پہلے کی بات ہے۔ اس وقت کچھ لوگوں پر عمران خان کو وزیر اعظم بنوانے کی ہوس طاری تھی۔ اس ہوس میں انہوں نے اس ملک، اس سماج، اس سیاست اور اس جمہوریت کےساتھ جو سلوک روا رکھا وہ آج ڈراؤنے خواب کی طرح ان کے سامنے آ رہا ہے۔ اس زمانے میں نواز شریف سسٹم کا سب سے بڑا دشمن تھا اور عمران خان سسٹم کا سب سے چہیتا تھا۔ اس زمانے میں وقت نے جس طرح اس ملک کی سیاست کے منہ پر کالک ملی وہ ناقابل تلافی ہے ۔

یہ اسی زمانے کی بات تھی جب ڈان لیکس کے ذریعے نواز شریف کو ملک کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا گیا۔ اس بات پر مہینوں پروگرام ہوتے رہے کہ نواز شریف کی نادیدہ فیکٹریوں میں سینکڑوں نادیدہ بھارتی ایجنٹ کام کرتے ہیں۔ کرپشن کا ہر الزام ان پر لگا۔ نفرت کا ہر پیغام ان کے نام ہوا۔ یہ تک ہوا کہ شریف خاندان جو ایک مذہبی خاندان کے نام سے جانا جاتا ہے، اس پر کفر کے فتوے بھی لگ گئے۔ بدقسمتی سے یہ فتوے انہوں نے لگائے جن کا اپنا ایمان اسلامی ٹچ تک محدود تھا۔

تحریک انصاف کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس نے جو بویا، اسے وہی کاٹنا پڑ رہا ہے۔ اس کا المیہ یہ ہے کہ اسے اپنی بوئی فصل کی کٹائی میں زیادہ وقت بھی نہیں لگا۔ ہمارے سامنے کی بات ہے، ابھی حال ہی میں تحریک انصاف کے غنڈے ہر کسی کی عزت کا جنازہ ٹی وی سکرینوں اور سوشل مِیڈیا پر نکالتے تھے۔ ان کے خلاف کسی کو بات کرنے کی جرات نہیں تھی۔ حالات اتنےسنگین تھے کہ کسی کو عثمان بزدار تک پر بھی تنقید کی جرات نہیں تھی۔ آج آزادی اظہار کا ماتم کرنے والوں کو شاید وہ وقت یاد نہ ہو، مگر وقت کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو یاد کرواتا ہے۔ جو باتیں آپ بھول بھی جانا چاہیں انہیں آپ کے سامنے لاتا ہے۔ اس زمانے میں نواز شریف کا نام ٹی وی پر لینا جرم تھا۔ ان کے حق میں بات کرنا ملک دشمنی تھا۔

تحریک انصاف کے اکثر لوگ آج کل حالات کی ستم ظریفی کا تذکرہ کرتے ہیں۔ جبر کے موسم کی بات کرتے ہیں۔ انہیں اس بات کا رتی بھر ادراک نہیں ہوتا کہ ابھی تو اس کام کی ابتدا ہوئی ہے جس کی انتہا تحریک انصاف کر چکی ہے۔ ابھی تو ’مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں‘۔ ابھی ظلم کی انتہا نہیں ہوئی، ابھی تو اس ظلم کی صرف ابتدا ہوئی ہے جو تحریک انصاف نے روا رکھا تھا۔

دیکھیں! ابھی کسی کے چہرے پر سیاہی نہیں پھینکی گئی، ابھی کسی کو گولی نہیں ماری گئی۔ ابھی کسی کےسامنے اس کی بیٹی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ ابھی کسی کے بسترِ مرگ پر اہلیہ کے اسپتال کے دروازوں پر ٹھڈے نہیں مارے گئے۔ ابھی سوشل میڈیا پر گالیوں کے وہ ٹرولز تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف نہیں شروع ہوئے جن میں لوگوں کی ماؤں، بہنوں کی عزتوں کو بھی پامال کیا گیا ہو۔ ابھی تحریک انصاف والوں پر کفر کے فتوے نہیں لگے۔ ابھی کسی نے نہیں کہا کہ ان کے بچوں سے کوئی شادی نہیں کرے گا، ابھی تک کسی نے ان کے گھروں پر پتھر نہیں مارے۔ ان پر کرپشن کے جھوٹے الزام بھی نہیں لگائے۔ ان کی فیکٹریوں سے بھارتی ایجنٹ بھی ابھی برآمد نہیں ہوئے۔ ابھی عمران خان کے کھانے میں کسی نے ایسا زہر نہیں ملایا جس سے ان کے پلیٹ لیٹس کم ہو جائیں۔ ابھی عمران خان کے بچوں کی نیب کی حراست میں تصویر بھی سامنے نہیں آئی۔

اس لیے کہ یہ اس  تکلیف دہ سفر کی ابتدا ہے، اس سفر کی انتہا تحریک انصاف نے ابھی دیکھنی ہے۔

جس نہج پر تحریک انصاف نے نفرت کو پہنچایا، اب یہ سماج اسی قوت سے اس نفرت کو لوٹا سکتا ہے لیکن تحریک انصاف کی خوش قسمتی ہے کہ اس کے سامنے ن لیگ ہے۔ جس میں  بہت سے لوگ اب بھی چاہتے ہیں کہ عمران خان کو رہا کیا جائے، ان کی سختیاں ختم کی جائیں، ان کو معافی دے دی جائے، ان کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دے دی جائے۔ بھٹو کیس جیسا فیصلہ نہ دوہرایا جائے۔

لیکن مسئلہ صرف ن لیگ کا نہیں اسٹیبلشمنٹ کا بھی ہے۔ نو مئی کا جرم نہ شہباز شریف کے خلاف ہوا نہ اس کا ہدف نواز شریف تھا۔ یہ جرم فوج کے خلاف ہوا۔ فوج بہت کچھ معاف کر سکتی ہے۔ وہ شاید کور کمانڈر کے گھر پر  حملہ بھی بھول جائے اور جی ایچ کیو کے گیٹ سے لٹکتے انصافی غنڈوں کو بھی بھلا دے مگر شہدا کی یادگاروں کو نذر آتش کرنے کا جرم اس سے بھلایا نہیں جا رہا۔ اس آگ کی تپش آج بھی فوج کو اپنے سینے پر محسوس ہوتی ہے۔ اور اس جرم پر کسی معافی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سابق این سی پی رہنما میر ارشد الحق کی بی این پی میں شمولیت

سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹوکنائزیشن، وزیر خزانہ کی عالمی وفد سے ملاقات

کرکٹ بورڈ کو الٹی میٹم دینے کی بھارتی خبریں غلط اور غیر مستند ہیں، بنگلادیش

ایران کیخلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، آرمی چیف کا دشمنوں کو سخت انتباہ

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مودی کے خلاف پھر نعرے، احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا

ویڈیو

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

جعلی مقدمات قائم کرنے سے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں، میاں داؤد ایڈووکیٹ

عمران خان نے کہا تھا کہ ’فوج میری ہے اور میں فوج کا ہوں‘، شاندانہ گلزار

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟