اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کہا ہے کہ کہنے کو تو ہم آزاد ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ گورا بادشاہ تو چلا گیا مگر نظام وہی چلتا رہا۔
پشاور اسمبلی ہال میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بابر سلیم سواتی نے انکشاف کیاکہ وہ سوئے ہوئے تھے جب بانی پی ٹی آئی عمران خان نے انہیں اسپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی احتساب کمیٹی نے اسپیکر بابر سلیم سواتی کو کرپشن الزامات سے بری کردیا
اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کا کہنا تھا کہ دانستہ طور پر کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی، آج پارلیمانی تاریخ کا ایک اہم دن ہے، عمران خان قانون کی بالادستی کی بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 1974 میں گورنر کے نوٹیفکیشن کے تحت بننے والے رولز آج تک چل رہے تھے، لیکن اب ہم نے انہیں عوام کی خواہشات کے مطابق ڈھال دیا ہے۔
’ان کے مطابق پہلے اسمبلی میں انگریزی، اردو اور پشتو زبانوں میں اظہار خیال کی اجازت تھی، مگر اب اراکین ہندکو اور سرائیکی میں بھی بات کر سکیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ہم آسٹریلیا اور دیگر کے پارلیمانی نظام کو دیکھ کر بہتری لائے۔
یہ بھی پڑھیں: اسپیکر بابر سلیم کو کرپشن الزامات میں کلین چٹ دینے پر پی ٹی آئی کی احتساب کمیٹی میں اختلافات
اپنے خطاب میں اسپیکر نے یہ بھی کہاکہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے ساتھ کبھی کبھی تلخی بھی ہوئی لیکن اصلاحات کے معاملے میں انہوں نے بھرپور تعاون کیا۔
بابر سلیم سواتی کے مطابق خیبر پختونخوا کا موسم ایسا ہے کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کب کلاؤڈ برسٹ ہوجائے۔














