نیپال میں ‘جن زی’ احتجاج: پارلیمنٹ نذر آتش، وزیراعظم کے مستعفی ہونے کے بعد فوج میدان میں آگئی

بدھ 10 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیپال میں ‘جن زی’ احتجاج، پارلیمنٹ نذر آتش ہونے اور درجنوں ہلاکتوں کے بعد دارالحکومت کٹھمنڈو میں فوجی چوکیوں اور ٹینکوں کا گشت جاری ہے اور عوام کو لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے احکامات سنائے جارہے ہیں۔

احتجاجات کا فوری سبب حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کے 26 بڑے پلیٹ فارمز کو عارضی طور پر بند کرنا بتایا جاتا ہے، جسے نوجوانوں نے اظہارِ رائے پر قدغن کے طور پر لیا اور وہی فوراً بڑے مظاہروں میں بدل گیا، حکومت نے بعد ازاں یہ پابندی واپس لی، مگر مظاہرے پہلے ہی تشدد میں تبدیل ہوچکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: نیپال میں احتجاج شدت اختیار کرگیا، صدر، وزیراعظم کی رہائش گاہیں، پارلیمان نذر آتش، وزیر خزانہ پر تشدد، وزیراعظم مستعفی

میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہروں کے دوران سیکورٹی فورسز نے آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں اور بعض مقامات پر براہِ راست فائرنگ کی، انسانی حقوق کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ بعض جگہوں پر ’لائیو امونیشن‘ بھی استعمال ہوئی جس کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے، جھڑپوں میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

کئی حکومتی اور سیاسی شخصیات کے گھر اور دفتر بھی مظاہرین کے ہدف بنے۔ سابق وزیراعظم جھلاناتھ خانال کے گھر کو مشتعل گروہوں نے آگ لگا دی،ان کی اہلیہ راجلکشمی چتراکر شدید جلنے کے زخموں کے باعث اسپتال میں زیرِ علاج رہیں اور بعد ازاں ان کے انتقال کی اطلاعات آئیں۔ حکومتی دفاتر، بڑے ہوٹلز اور میڈیا ہاؤسز پر بھی حملے ہوئے۔

بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد نیپالی فوج نے سڑکوں پر دستے تعینات کردیے اور ایمرجنسی احکامات جاری کیے۔ فوج کے احکامات میں واضح تنبیہ شامل تھی کہ ’احتجاج کے نام پر ملک دشمن کارروائی، لوٹ مار، آگ لگانا یا افراد و املاک پر حملے قابلِ سزا جرم شمار کیے جائیں گے‘۔

فوجی سربراہ جنرل اشوک راج سگدل نے ویڈیو پیغام میں تمام فریقین کو مذاکرات کی دعوت دی اور پرامن حل کا مطالبہ کیا۔

شدتِ احتجاج اور تشدد کے دباؤ کے بعد وزیراعظم کے پی شرما اولی نے استعفیٰ دے دیا۔ بین الاقوامی برادری نے سنجیدگی کا اظہار کیا، اقوامِ متحدہ نے تناؤ کم کرنے اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جب کہ پڑوسی ملک بھارت نے نیپال میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں: نیپال میں ’جنریشن زی‘ سڑکوں پر کیوں نکلی؟

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عبوری یا نگہبان حکومت کا تشکیلِ عمل مذاکرات کے ذریعے طے ہونا چاہیے مگر یہ واضح نہیں کہ نوجوان قائدین کس فرد یا جماعت کے گرد متحد ہوں گے۔

کچھ رپورٹس کے مطابق کٹھمنڈو کا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سرگرمیاں بحال ہو سکتی ہیں۔ تاہم سفری پابندیاں اور انڈین ایئر لائنز کی پروازیں وقتی طور پر معطل رہیں۔ مقامی بازار، اسکول اور دفتری سرگرمیاں کئی شہروں میں متاثر رہیں۔

احتجاجیوں میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے، خصوصاً وہ نسل جسے ’جن زی‘ کہا جا رہا ہے، جنہوں نے سوشل میڈیا پابندی کے علاوہ کرپشن، سیاسی مراعات اور روزگار کے مواقع کی کمی کے خلاف غم و غصہ ظاہر کیا، ماہرین کا کہنا ہے کہ عبوری انتظامیہ میں ایسی شخصیات کو شامل کرنا ضروری ہوگا جو نوجوانوں کا اعتماد بحال کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیپال میں ’جنریشن زی‘ تحریک، بھارت کے خطے میں بالادستی کے عزائم بے نقاب

صورتِ حال میں فوری طور پر امن بحال کرنا اور تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف شفاف تحقیقات کا آغاز بڑے چیلنج ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کا مشورہ ہے کہ صدر، فوجی قیادت، احتجاجی نمائندے اور سیاسی جماعتیں مل کر عبوری حل، نگران حکومت یا نئے انتخابات کی راہ ہموار کریں، ورنہ سیاسی و معاشی خلا طویل ہو سکتا ہے۔

فوج نے وقتی طور پر صورتِ حال کنٹرول میں لینے کی کوشش کی ہے مگر ملک کا آئندہ راستہ مذاکرات، شفاف تحقیقات اور قابلِ قبول عبوری انتظامیہ کے ذریعے ہی ممکن نظر آتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وینیزویلا پر امریکی حملے کے بعد ’جیک رائن‘ سیریز کا کلپ کیوں وائرل ہوا؟

ریٹائرمنٹ کے بعد لیونل میسی کیا کرنا پسند کریں گے؟ فٹبالر نے خود بتادیا

پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ

پنجاب میں دھند کا راج برقرار، مختلف موٹرویز بند

امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟