چین کی 10 انقلابی ایجادات، قدیم سے جدید تک دنیا پر چھا جانے کی داستان

جمعرات 11 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین ایک ایسا ملک ہے جس کی تاریخ جدت و اختراع سے بھری پڑی ہے۔ قدیم زمانوں سے لے کر آج تک چینی موجدوں، سائنسدانوں اور انجینئروں نے دنیا کو انقلابی ایجادات دی ہیں جنہوں نے انسانی زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔ چاہے وہ تحریر کو کاغذ پر لانے کی ایجاد ہو یا جدید ترین کوانٹم کمپیوٹنگ، چین کا یہ سفر آج بھی جاری ہے۔

کاغذ سازی

کاغذ کی ایجاد ہان خاندان کے دور (105 عیسوی) میں ہوئی جس نے تحریر اور رابطے کے ذرائع میں انقلاب برپا کر دیا۔ درباری اہلکار سائی لون نے کپڑے کے ٹکڑوں اور دیگر اشیا کو استعمال کرکے کاغذ بنانے کا طریقہ ایجاد کیا، جو بعد میں پوری دنیا میں پھیل گیا۔

بارود

9ویں صدی عیسوی میں چینی داؤ مت کے کیمیا دانوں نے گندھک، کوئلے اور شاور نمک کو ملا کر بارود ایجاد کیا۔ ابتدا میں یہ ایجاد مذہبی و کیمیائی تجربات کے لیے استعمال ہوئی، مگر جلد ہی جنگی مقاصد کے لیے استعمال کی جانے لگی۔ کئی صدیوں تک دنیا میں بارود کی ٹیکنالوجی میں چین سب سے آگے رہا، جس کے بعد یہ ایجاد مشرقِ وسطیٰ اور یورپ تک پہنچی۔

قطب نما (Compass)

چین میں پہلی بار سی نان نامی ابتدائی قطب نما جنگی ریاستوں کے دور (475–221 قبل مسیح) میں سامنے آیا۔ ابتدا میں اسے قسمت معلوم کرنے اور فین شُوئی کے لیے استعمال کیا گیا، مگر سونگ خاندان کے دور (11ویں صدی) میں اسے سمندری جہاز رانی کے لیے استعمال کیا گیا۔ 12ویں صدی میں یہی ایجاد یورپ پہنچی جس نے دنیا کو عہدِ دریافت میں داخل کردیا۔

طباعت (Printing)

طباعت کی ایجاد بھی چین ہی کا کارنامہ ہے۔ تانگ خاندان (7ویں صدی) میں لکڑی کے بلاک سے طباعت شروع ہوئی، جبکہ سونگ خاندان کے دور (11ویں صدی) میں بی شینگ نے مٹی اور لکڑی کے استعمال سے متحرک حروف کی طباعت ایجاد کی۔ یہ ٹیکنالوجی پورے ایشیا میں پھیلی اور معلومات کے تبادلے میں انقلاب برپا کیا، یورپ میں گٹن برگ کی مشہور طباعت سے بھی صدیوں پہلے۔

تیز رفتار ریل (High-Speed Rail)

چین نے دنیا کا سب سے وسیع ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک قائم کیا ہے جہاں ٹرینیں 350 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے دوڑتی ہیں۔

5G ٹیکنالوجی

ہواوے اور زیڈ ٹی ای جیسی چینی کمپنیاں 5G نیٹ ورک کے فروغ میں صفِ اول پر ہیں، جس سے دنیا بھر میں تیز اور قابلِ اعتماد رابطے میسر آئے ہیں۔

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)

چین مصنوعی ذہانت پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے، جس کے اطلاقات صحت، مالیات اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

قابلِ تجدید توانائی (Renewable Energy)

شمسی اور ہوائی توانائی میں چین دنیا کی قیادت کر رہا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کم کر رہے ہیں بلکہ پائیدار ترقی کی راہیں بھی کھول رہے ہیں۔

کوانٹم کمپیوٹنگ (Quantum Computing)

چینی سائنسدان کوانٹم کمپیوٹنگ میں نمایاں پیش رفت کر چکے ہیں، جس سے سائبر سکیورٹی، حسابی مسائل اور سمیولیشن میں انقلاب آنے کی توقع ہے۔

روبوٹکس (Robotics)

چین نے مختلف صنعتوں کے لیے جدید روبوٹ تیار کیے ہیں، جن میں مینوفیکچرنگ، صحت اور سروس سیکٹر شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان میں بدامنی کی وجہ صرف معاشی مسائل نہیں، پروپیگنڈے نے حقائق کو مسخ کیا

عمران خان کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

ایپسٹین کی موت کی وجہ خودکشی کے بجائے قتل ہے، پوسٹ مارٹم کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کا دعویٰ

ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت میں پاکستانی اسپنر کا خوف، سابق کرکٹر نے اپنی ٹیم کو اہم مشورہ دیدیا

محمد یونس کی طارق رحمان کو مبارکباد، بی این پی کی جیت کو تاریخی قرار دیا

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟