گزشتہ روز ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کا اہم میچ کھیلا گیا جو اس وقت تنازعہ کا شکار ہوگیا جب بھارتی کھلاڑیوں نے اسپرٹ آف دی گیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ نہیں ملایا۔
بھارتی کھلاڑیوں کی اس حرکت کے جواب میں پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے بھی پریزنٹیشن کا بائیکاٹ کردیا کیونکہ میچ ریفری کی جانب سے بھارتی کھلاڑیوں کے رویے پر نہ تو کوئی کارروائی دیکھنے کو ملی اور نہ ہی انہیں تنبیہ کی گئی، جس کے بعد پاکستان نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے واضح مطالبہ کردیا کہ یا تو وہ میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ کو ایونٹ سے باہر کریں، اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر پاکستان ایشیا کپ کے مزید میچ نہیں کھیلے گا۔
اس پورے تنازعے کے بعد سوال اٹھنا شروع ہوگئے ہیں کہ آخر اینڈی پائی کرافٹ کون ہیں اور ان کا ماضی کیا ہے؟
پائی کرافٹ کا تعلق زمبابوے سے ہے اور انہوں نے دسمبر 2024 میں 100 ٹیسٹ میچوں میں ریفری کے فرائض انجام دینے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے میچ ریفری فوری طور پر ہٹایا جائے‘، ایسا نہ ہونے پر پاکستان کا ایشیا کپ مزید نہ کھیلنے کا امکان
کرکٹ کیریئر
اینڈی پائی کرافٹ نے زمبابوے کی قومی ٹیم کی نمائندگی 1983 سے 1992 کے دوران کی، جس میں 3 ٹیسٹ اور 20 ایک روزہ میچ شامل ہیں۔ وہ زمبابوے کے سب سے کم عمر ٹیسٹ کپتان اور ملک کے پہلے سیاہ فام کپتان بھی رہے۔ کھیل سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے کوچ اور چیف سلیکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
میچ ریفری کیریئر
پائی کرافٹ 2009 میں آئی سی سی ایلیٹ پینل آف میچ ریفریز میں شامل ہوئے۔ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے اب تک 100 ٹیسٹ میچز، 238 ایک روزہ بین الاقوامی میچز، 174 مردوں کے ٹی ٹوئنٹی، اور 21 خواتین کے ٹی ٹوئنٹی میچز میں ریفری کے فرائض انجام دیے۔
حالیہ تنازعہ
ستمبر 2025 میں پاکستان اور بھارت کے مابین ایشیا کپ کے میچ کے دوران پائی کرافٹ ایک تنازعے کی زد میں آگئے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئی سی سی کو باضابطہ شکایت درج کروائی کہ انہوں نے پاکستانی کپتان سلمان علی آغا کو ہدایت دی کہ بھارتی کپتان کے ساتھ روایتی مصافحہ نہ کریں۔
پی سی بی نے مؤقف اپنایا کہ پائی کرافٹ کا یہ رویہ کھیل کی روح (Spirit of Cricket) کے خلاف ہے اور اس سے ان کی غیر جانبداری پر سوال اٹھتے ہیں۔ بورڈ نے ان کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔
اینڈی پائی کرافٹ، جنہیں برسوں سے کرکٹ میں ان کی خدمات کے باعث عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اب ایک ایسے تنازعے کا سامنا کر رہے ہیں جو نہ صرف ان کے کیریئر بلکہ ایشیا کپ کے ماحول پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔














