اقوام متحدہ کا ’سمندروں کا آئین‘ جنوری 2026 سے نافذ ہوجائے گا

پیر 22 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کا بین الاقوامی سمندری حیات کے تحفظ کا معاہدہ، جس کا مقصد کھلے سمندروں میں حیاتیاتی تنوع کو بچانا ہے، 60 ممالک کی توثیق کے بعد بالآخر نافذ العمل ہونے کو ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 15 لاکھ آسٹریوی شہری خطرے میں: سمندر کی سطح میں خطرناک اضافے کی پیشگوئی

مراکش اور سیرالیون کی حالیہ منظوری کے بعد معاہدہ آئندہ سال 17 جنوری 2026 سے باضابطہ طور پر لاگو ہو جائے گا۔

یہ معاہدہ، جس پر 2023 میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے اتفاق کیا تھا، 2 دہائیوں پر محیط طویل مذاکرات کے بعد طے پایا۔ اسے باضابطہ طور پر ’ملکی حدود سے باہر سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار استعمال کا معاہدہ‘ (بی بی این جے) کہا جاتا ہے۔

تاریخی سنگ میل

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے معاہدے کی منظوری کو سمندری تحفظ اور کثیرالطرفہ تعاون کی تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب دنیا مشترکہ بھلائی کے لیے متحد ہو تو غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔

مزید پڑھیے: سمندر کا بڑھتا پانی اور ڈوبتی تہذیب، ایسٹر آئی لینڈ کے تاریخی مجسمے خطرے میں

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ دنیا اس وقت 3 بڑے بحرانوں موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کے زوال اور ماحولیاتی آلودگی سے نبرد آزما ہے اور ایسے میں یہ معاہدہ انسانیت اور سمندر دونوں کے مستقبل کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

معاہدے کی اہم شقیں

یہ معاہدہ عالمی سمندری حدود کے 2 تہائی حصے کا احاطہ کرتا ہے۔ اس کے تحت سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار استعمال کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، جینیاتی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے گا، خطرے سے دوچار آبی حیات کے لیے محفوظ سمندری علاقے قائم کیے جائیں گے، سائنسی تحقیق اور تعاون کو فروغ دیا جائے گا اوررکن ممالک کے لیے قوانین کی پابندی لازم ہوگی۔

انسانی وجود اور سمندر

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یونیپ) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن نے اس پیشرفت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سمندر زندگی کی بنیاد ہے اور آج دنیا نے اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔

 

عالمی اہداف کی جانب پیش قدمی

‘بی بی این جے’ معاہدہ اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کا تسلسل ہے جسے ‘سمندروں کا آئین’ بھی کہا جاتا ہے۔ سنہ 2026 میں نافذ ہونے کے بعد یہ معاہدہ حیاتیاتی تنوع کے عالمی اہداف خصوصاً کنمنگ-مونٹریال فریم ورک کے تحت زمین اور سمندر کے 30 فیصد علاقوں کو تحفظ دینے کے ہدف کو حاصل کرنے کا راستہ ہموار کرے گا۔

مزید پڑھیں: عالمی یوم ماحولیات: پلاسٹک آلودگی سے زمین، سمندر اور انسان سب خطرے میں

سیکریٹری جنرل گوتیرش نے اقوام متحدہ کے باقی تمام ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی فوری طور پر معاہدے کی توثیق کریں کیونکہ سمندر کی صحت، انسانیت کی صحت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم