مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

جمعرات 23 جولائی 2026
author image

عبدالرحمان حیات

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گزشتہ چند برسوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، سلامتی اور علاقائی توازن میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ ایک ایسے خطے میں جہاں دہائیوں سے عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم رہی ہیں، اب نئے علاقائی کردار سامنے آ رہے ہیں۔ انہی تبدیلیوں کے درمیان پاکستان بھی بتدریج ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے جو صرف روایتی اتحادی کی حیثیت تک محدود نہیں بلکہ سفارت کاری، دفاعی تعاون اور علاقائی استحکام کے معاملات میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کو ہمیشہ عالمی سیاست کا مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ صرف تیل اور گیس کے وسیع ذخائر نہیں بلکہ اس کی جغرافیائی اہمیت بھی ہے۔ ایشیا، یورپ اور افریقہ کو ملانے والے اہم بحری راستے اسی خطے سے گزرتے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز، باب المندب اور نہر سویز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے تین بڑے مذاہب کے مقدس مقامات بھی اسی خطے میں واقع ہیں، جس کی وجہ سے یہاں ہونے والی ہر سیاسی یا عسکری پیش رفت عالمی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔

سات اکتوبر 2023 کے بعد خطے کی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی۔ غزہ کی جنگ، اس کے بعد بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی، ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ، بحیرہ احمر میں سلامتی کے مسائل اور یمن سے ہونے والے حملوں نے خلیجی ممالک کو اپنی سلامتی کے حوالے سے نئی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ ان حالات میں کئی ریاستوں نے اپنی دفاعی شراکت داریوں کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کیا تاکہ بدلتے ہوئے خطرات کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

ان ہی بدلتے ہوئے حالات میں پاکستان کی اہمیت بھی بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو ایک طرف سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور ترکیہ سمیت متعدد مسلم ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی سفارتی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہی توازن اسلام آباد کو خطے میں ایک منفرد حیثیت دیتا ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں حالیہ برسوں کے دوران یہ رجحان واضح طور پر سامنے آیا ہے کہ ملک صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود رہنے کے بجائے علاقائی استحکام میں بھی اپنا کردار بڑھانا چاہتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان نے مختلف علاقائی بحرانوں میں سفارتی رابطوں کو فروغ دینے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں دلچسپی دکھائی ہے۔

پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت صرف سفارت کاری تک محدود نہیں۔ ملک کی دفاعی صلاحیت، پیشہ ور مسلح افواج، ایٹمی طاقت، انسداد دہشتگردی کے شعبے میں وسیع تجربہ اور دفاعی پیداوار کی بڑھتی ہوئی استعداد بھی اسے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لیے ایک اہم شراکت دار بناتی ہے۔ یہی عوامل ہیں جن کی وجہ سے خلیجی ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

اسی پس منظر میں خبر رساں ادارے رائٹرز نے 17 جولائی 2026 کو ایک خصوصی رپورٹ شائع کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے حوالے سے ابتدائی مذاکرات جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک نہ صرف سلامتی کے شعبے میں تعاون بڑھانے بلکہ توانائی، سرمایہ کاری اور اقتصادی شراکت داری کو بھی مزید مضبوط بنانے پر غور کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کویت موجودہ دفاعی تعاون کو ایک وسیع فریم ورک میں تبدیل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ موجودہ تعاون بنیادی طور پر فوجی تربیت اور مشترکہ مشقوں تک محدود ہے، تاہم زیر غور تجاویز میں دفاعی تعاون کے مزید پہلو بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا، لیکن اس پیشرفت کو مشرقِ وسطیٰ میں بدلتے ہوئے دفاعی ماحول کا اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کویت اپنی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے مختلف امکانات کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ پاکستان اس تعاون کو وسیع تر اقتصادی شراکت داری کے ساتھ جوڑنا چاہتا ہے۔ اسلام آباد کی خواہش ہے کہ دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے میں بھی طویل المدتی تعاون قائم ہو، جس سے ایندھن کی فراہمی، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو سکیں۔

پاکستان کے لیے خلیجی سرمایہ کاری اس وقت خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ حکومت گزشتہ چند برسوں سے بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینے، توانائی کے شعبے کو مستحکم بنانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ ایسے میں اگر دفاعی تعاون کے ساتھ اقتصادی تعاون بھی آگے بڑھتا ہے تو اسے پاکستان کی وسیع تر اقتصادی حکمت عملی کا حصہ تصور کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب خلیجی ممالک پاکستان کو صرف ایک دفاعی شراکت دار کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کے طور پر بھی دیکھتے ہیں جو کئی دہائیوں سے خطے کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے، جس کی افواج کو مختلف بین الاقوامی مشنز کا تجربہ حاصل ہے اور جو دفاعی تربیت، فوجی تعاون اور سلامتی کے شعبوں میں قابل اعتماد صلاحیت رکھتا ہے۔

خطے کے بدلتے ہوئے حالات نے یہ حقیقت بھی واضح کر دی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں مستقبل کی شراکت داریاں صرف عسکری تعاون تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ ان کا تعلق سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت اور علاقائی استحکام جیسے وسیع شعبوں سے بھی ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں دفاعی سفارت کاری اور اقتصادی تعاون کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں دفاعی تعاون کے اس رجحان کا دائرہ صرف پاکستان اور کویت تک محدود نہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بحرین نے بھی پاکستان کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو مزید فروغ دینے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جبکہ اردن فوجی تربیت، دفاعی پیداوار اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔ اگرچہ ان معاملات پر ابھی مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے، تاہم یہ پیشرفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے کے متعدد ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی روابط کو مستقبل کی حکمت عملی کا حصہ سمجھ رہے ہیں۔

اسی طرح پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے ایک مجوزہ سہ فریقی فریم ورک پر بھی گزشتہ کئی ماہ سے کام جاری ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ معاہدہ سامنے نہیں آیا، لیکن دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس نوعیت کے تعاون میں پیشرفت ہوتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خلیج بلکہ وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ دونوں ممالک مشترکہ فوجی مشقوں، تربیت، دفاعی رابطوں اور سلامتی کے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح ترکیہ کے ساتھ بھی پاکستان کے دفاعی تعلقات گزشتہ برسوں میں نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں، جن میں دفاعی صنعت، بحری تعاون، فضائی ٹیکنالوجی اور عسکری تربیت شامل ہیں۔ ان مضبوط تعلقات کی وجہ سے بعض مبصرین خطے میں ایک ایسے تعاون کی بات کرتے ہیں جس میں مشترکہ مفادات رکھنے والے ممالک سلامتی اور دفاع کے شعبوں میں زیادہ قریبی روابط قائم کر سکتے ہیں۔

پاکستان کی دفاعی صنعت بھی گزشتہ چند برسوں میں مسلسل ترقی کر رہی ہے۔ جنگی طیاروں، بغیر پائلٹ طیاروں، بحری سازوسامان، ہتھیاروں اور عسکری آلات کی تیاری میں ہونے والی پیشرفت نے کئی دوست ممالک کی دلچسپی حاصل کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دفاعی برآمدات کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک ابھرتا ہوا شعبہ تصور کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت بھی اس صنعت کو مزید فروغ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ توانائی کا شعبہ بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اہم مقام رکھتا ہے۔ ملک کو اپنی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے طویل المدتی شراکت داریوں کی ضرورت ہے، جبکہ خلیجی ممالک سرمایہ کاری اور توانائی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان دفاعی تعلقات کو اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور توانائی کے منصوبوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ سب کو مشترکہ طور پر یکساں فوائد حاصل ہوں۔

تاہم خطے میں پاکستان کا بڑھتا ہوا کردار صرف مواقع ہی پیدا نہیں کرتا بلکہ کئی سفارتی چیلنجز بھی سامنے لاتا ہے۔ پاکستان ایک طرف سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی ہمسایہ ہونے کے ناتے متوازن تعلقات برقرار رکھنا اس کی خارجہ پالیسی کی اہم ضرورت ہے۔ اسی طرح چین کے ساتھ اس کی اسٹریٹجک شراکت داری، امریکا کے ساتھ تعلقات اور جنوبی ایشیا میں بھارت کے ساتھ جاری کشیدگی بھی پاکستان کی سفارتی ترجیحات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوگی کہ وہ مختلف علاقائی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھ سکے۔ اگر اسلام آباد کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے مختلف ممالک کے درمیان تعاون، رابطے اور استحکام کو فروغ دینے میں کامیاب رہتا ہے تو اس کی سفارتی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔

اسی طرح دفاعی تعاون کو اقتصادی ترقی کے ساتھ منسلک کرنا بھی پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ اگر خلیجی سرمایہ کاری، توانائی کے منصوبے، صنعتی تعاون اور دفاعی برآمدات ایک دوسرے کی تکمیل کریں تو اس سے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے بلکہ ملک کی علاقائی حیثیت بھی مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نئے دور سے گزر رہا ہے جہاں روایتی اتحاد تبدیل ہو رہے ہیں، سلامتی کے نئے تصورات سامنے آ رہے ہیں اور علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نئی حکمت عملیاں اختیار کر رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ اپنے دیرینہ تعلقات، دفاعی صلاحیت، سفارتی روابط اور اقتصادی مفادات کو ایک متوازن حکمت عملی کے تحت آگے بڑھائے۔

اگرچہ پاکستان اور کویت کے درمیان جاری مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور ان کے حتمی نتائج سامنے آنا باقی ہیں، لیکن یہ پیشرفت اس وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس کے تحت پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں صرف ایک روایتی اتحادی نہیں بلکہ ایک ایسے شراکت دار کے طور پر اپنی جگہ بنا رہا ہے جو دفاع، سفارت کاری، توانائی اور اقتصادی تعاون کے مختلف شعبوں میں بڑھتا ہوا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آنے والے برسوں میں اس کردار کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پاکستان بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں کس حد تک متوازن خارجہ پالیسی برقرار رکھتا ہے، اقتصادی اصلاحات کو آگے بڑھاتا ہے اور دفاعی وسفارتی تعاون کو علاقائی استحکام کے وسیع تر مقصد کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اگر یہ توازن برقرار رہا تو پاکستان مشرقِ وسطیٰ کی نئی علاقائی ترتیب میں ایک مؤثر اور قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر اپنی اہمیت مزید مستحکم کر سکتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبدالرحمان حیات پاکستان میں مقیم سینیئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار ہیں، جو عرب میڈیا سے وابستہ ہیں اور پاکستان و مشرق وسطیٰ کے سیاسی و سفارتی امور پر نظر رکھتے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp