’میرا گھر میرا آشیانہ‘ اسکیم دوبارہ شروع، کون کون فائدہ اٹھا سکتا ہے؟

جمعرات 25 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ’میرا گھر میرا آشیانہ‘ اسکیم دوبارہ متعارف کرا دی ہے جس کے تحت پہلی مرتبہ گھر خریدنے والے شہری 20 لاکھ سے 35 لاکھ روپے تک قرض حاصل کر سکیں گے۔

مرکزی بینک کے مطابق قرضہ گھر، فلیٹ یا پلاٹ خریدنے اور گھر کی تعمیر کے لیے فراہم کیا جائے گا۔

اس اسکیم کے تحت زیادہ سے زیادہ 5 مرلہ یا 1360 مربع فٹ کے گھر یا فلیٹ کی خریداری ممکن ہوگی۔ قرض کا دورانیہ 20 سال رکھا گیا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے 10 سال تک سبسڈی فراہم کی جائے گی۔

اسٹیٹ بینک کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تمام روایتی و اسلامی بینک، مائیکرو فنانس بینک اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن (HBFC) اس اسکیم کے تحت قرض فراہم کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:’اپنی چھت اپنا گھر اسکیم‘ کے تحت قرضوں کی فراہمی کا حجم بڑھا دیا گیا

بینک کائیبور پلس 3 فیصد کے حساب سے پرائسنگ کریں گے۔ صارفین کو 20 لاکھ روپے تک قرض 5 فیصد شرح سود پر اور 35 لاکھ روپے تک قرض 8 فیصد شرح سود پر ملے گا۔

واضح رہے کہ اس اسکیم کے تحت قرض کی پروسیسنگ کی کوئی فیس نہیں رکھی گئی ہے، جس کا مقصد متوسط اور نچلے طبقے کے شہریوں کے لیے اپنے گھر کی خریداری یا تعمیر کو آسان بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ داخل، ملک بھر میں بارشیں، آندھی اور ژالہ باری کی پیشگوئی

ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کا دورۂ پاکستان، عدالتی تعاون کا معاہدہ طے پانے کا امکان

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے برطانیہ کا بڑا اقدام، 35 ممالک کا اجلاس طلب

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک

سپریم کورٹ کا مطیع اللہ جان کے مقدمے میں اہم حکم، ٹرائل کورٹ کو فردِ جرم عائد کرنے سے روک دیا

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟