ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کا دورۂ پاکستان، عدالتی تعاون کا معاہدہ طے پانے کا امکان

جمعرات 2 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر قادر اوزکیا آئندہ ہفتے پاکستان کا اہم دورہ کریں گے، جس کے دوران دونوں ممالک کی اعلیٰ عدلیہ کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے معاہدہ کیا جائے گا۔ اس دورے میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں اور تقریبات بھی شامل ہوں گی۔

ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر اپنے دورے کے دوران سپریم کورٹ آف پاکستان کا دورہ کریں گے، جہاں باہمی عدالتی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔ اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی 6 اپریل کو معزز مہمان کے اعزاز میں ظہرانہ دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت: صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کے لیے درخواست دائر

اس کے علاوہ چیف جسٹس آئینی عدالت امین الدین خان بھی 7 اپریل کو ترک ہم منصب کے اعزاز میں ظہرانہ دیں گے۔ دورے کے دوران ترک وفد وفاقی آئینی عدالت کا دورہ بھی کرے گا، جہاں دونوں ممالک کے عدالتی نظام اور تجربات کے تبادلے پر بات چیت متوقع ہے۔

یہ دورہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور قانونی شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں