’بلوچ یکجہتی کمیٹی‘ کس طرح دہشتگردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے؟ آئی آئی سی آر کی ہوشربا رپورٹ

اتوار 28 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

اسلام آباد میں قائم آزاد اور غیر جانبدار تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف کانفلکٹ ریزولوشن (IICR) نے ایک تازہ تجزیاتی رپورٹ میں بلوچستان کی صورتِ حال اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے کردار پر روشنی ڈالی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ بلوچ کی متنازع نامزدگی کا بھارتی پراپیگنڈا؟

رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں جاری دہشتگردی صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ بیانیے کی جنگ میں بھی لڑی جا رہی ہے، جہاں انسانی حقوق کے نام پر دہشتگردی کو جواز دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بلوچستان: دہائیوں پر محیط دہشتگردی

بلوچستان طویل عرصے سے شدت پسند گروہوں کی پرتشدد مہم کا شکار رہا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) نے خود کو سیاسی جدوجہد کے پردے میں چھپایا لیکن ان کے اقدامات خالصتاً دہشتگردی کے ہیں۔

حالیہ برسوں میں بی ایل اے نے نہ صرف شہریوں کو نشانہ بنایا بلکہ بسوں سے مسافروں کو اتار کر قتل کیا، جافر ایکسپریس کو یرغمال بنایا اور اسکول بس پر حملہ کیا جس میں بچے جاں بحق ہوئے۔

ان واقعات نے عالمی سطح پر مذمت کو جنم دیا اور امریکہ نے بی ایل اے کو باضابطہ طور پر دہشتگرد تنظیم قرار دیا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی: انسانی ہمدردی یا دہشتگردی کی حمایت؟

بلوچ یکجہتی کمیٹی 2018 میں سامنے آئی اور ابتدا میں سماجی خدمات کی آڑ میں مقبولیت حاصل کی۔

تاہم رپورٹ کے مطابق اس کی قیادت، خصوصاً ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، ریاستی حمایت کے باوجود دہشتگردی کی مذمت کرنے کے بجائے ہمیشہ ریاستی اداروں کو نشانہ بناتی رہی۔

یہ بھی پڑھیں:خان کو باہر بھیجنے کا پلان، شہباز شریف اور عاصم منیر عظیم لیڈر قرار، ماہرنگ بلوچ کی نوبل انعام کے لیے نامزدگی

بی وائی سی نے بی ایل اے کے حملوں پر خاموشی اختیار کی اور بعض مواقع پر دہشتگردوں کو شہید قرار دے کر ان کے جنازے بھی حاصل کرنے کی کوشش کی۔

لاپتا افراد کا بیانیہ اور حقائق

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بی وائی سی کی جانب سے ’لاپتا افراد‘ قرار دیے جانے والے کئی نوجوان بعد میں بی ایل اے کے دہشتگرد کے طور پر سامنے آئے۔

متعدد ایسے کیسز درج ہیں جن میں لاپتا قرار دیے گئے افراد خودکش حملوں میں مارے گئے۔ یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ ’لاپتا افراد‘ کا بیانیہ دہشتگردی کو چھپانے اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

بین الاقوامی سطح پر پروپیگنڈا

بی وائی سی اور اس کے حامی بیرونِ ملک بھی سرگرم ہیں۔ یورپ اور امریکا میں احتجاجی مظاہرے کرکے پاکستان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے، جبکہ دہشتگرد گروہوں کے جرائم کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ بلوچ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے والا ’یورگن واٹنے فریڈنس‘ کون ہے؟

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ پروپیگنڈا دہشتگردوں کو سفارتی تحفظ دیتا ہے اور پاکستان کی انسدادِ دہشتگردی کی کاوشوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

دہشتگردی کو دہشتگردی کہنا ضروری

IICR کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کا امن صرف دہشتگردوں کے خلاف کارروائی سے نہیں بلکہ بیانیے کی جنگ جیتنے سے بھی وابستہ ہے۔

 بی وائی سی جیسے پلیٹ فارمز انسانی حقوق کے پردے میں دہشتگردوں کو سہارا دیتے ہیں، اس لیے ان کے بیانیے کو بے نقاب کرنا ناگزیر ہے۔

پاکستان کو چاہیے کہ عالمی سطح پر یہ واضح کرے کہ اصل انسانی حقوق کی خلاف ورزی عام شہریوں، مزدوروں اور طلبہ کا قتل ہے، جو بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسے گروہ کرتے ہیں۔

انسٹیٹیوٹ اپنی رپورٹ میں زور دیا ہے کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے دہشتگردی کے ہتھیار اور پروپیگنڈا دونوں کو شکست دینا ہو گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فلسطینی نژاد مصنفہ کے ادبی میلہ سے اخراج پر احتجاج، 180 مصنفین کا شرکت سے انکار، فیسٹیول بورڈ ارکان مستعفی

بلوچستان فائنانس ایکٹ 2020 آئینی قرار، اٹک سیمنٹ کی درخواست مسترد

نوجوان اداکار سمجھتے ہیں ہمیں سب کچھ آتا ہے، صبا فیصل کی تنقید

بنگلہ دیش میں شخصی حکمرانی روکنے کے لیے ایوان بالا قائم کرنے کی تجویز پیش

مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لیے میٹا کی نئی حکمتِ عملی

ویڈیو

سخت سردی میں سوپ پینے والوں کی تعداد میں اضافہ

سانحہ 9 مئی: سہیل آفریدی کی موجودگی ثابت، ایف آئی آر میں نامزد نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کریں گے، وکیل ریڈیو پاکستان

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

کالم / تجزیہ

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘