ٹیکنالوجی کی دوڑ میں مدھم ہوتی ریڈیو کی آواز

پیر 29 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہر گھر میں خبروں اور موسیقی کا پہلا ذریعہ ابلاغ رہنے کے بعد ریڈیو آج کے دور میں ماضی کی یاد بن کر رہ گیا ہے۔

راولپنڈی میں ریڈیو مکینک جمیل صاحب کا کہنا ہے کہ اب ریڈیو کے پرزے مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے۔

’اگر کبھی کوئی پرزہ مل جائے تو ریڈیو مرمت کر دیا جاتا ہے، لیکن اکثر ایسا ممکن نہیں ہوتا۔‘

الیکٹرونک پرزہ جات کی فروخت سے منسلک سید صاحب کے مطابق ریڈیو نے بطور ذریعہ ابلاغ کئی مراحل طے کیے ہیں۔ پہلے اینالاگ ریڈیو آیا، پھر ڈیجیٹل، اور اب موبائل فونز میں ریڈیو کی سہولت موجود ہے۔

’ان تبدیلیوں کے باعث پرزوں کی طلب کم ہوتی گئی اور نتیجتاً وہ مارکیٹ سے غائب ہو گئے۔‘

ریڈیو سمیت دیگر الیکٹرونک اشیا کے دکاندار بلال نے بتایا کہ چونکہ لوگ اب ریڈیو سیٹ علیحدہ سے خریدتے ہی نہیں، اس لیے اس کی مرمت کی گنجائش بھی کم ہو گئی ہے۔

اگر کوئی صارف ریڈیو خرید بھی لے اور بعد میں اس کی مرمت کروانا چاہے تو پرزے نایاب ہونے کے باعث یہ ایک مشکل کام ہے۔

ایک گاہک نے بھی اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کا یقین نہیں کہ ان کا ریڈیو مرمت ہو سکے گا۔

یوں لگتا ہے کہ ریڈیو، جو کبھی ہر دل کی آواز تھا، اب ٹیکنالوجی کی تیز رفتار دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔ لیکن پھر بھی کچھ لوگوں کے لیے یہ آواز آج بھی یادوں کا سرمایہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فیکٹری میں آتشزدگی

زیتون کا تیل اور ہڈیوں کا سوپ: کیا سوشل میڈیا پر وائرل غذائیں واقعی مؤثر ہیں؟

اسلام آباد مسجد حملہ، بھارت کا اظہارِ افسوس

مکہ مکرمہ میں شہری ترقی کے حالیہ اقدامات نے معیار زندگی مزید بہتر بنادیا

اسلام آباد سانحہ، پی ٹی آئی کا وفاقی حکومت کی ناکامیوں پر استعفوں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

ویڈیو

اسلام آباد امام بار گاہ میں خود کش دھماکا بھارت کی سرپرستی میں کیا گیا، وزیر مملکت برائے داخلہ کی میڈیا سے گفتگو

امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟

لاہور میں بسنت کے تہوار پر تاریخی جشن

کالم / تجزیہ

پاکستان کا پیچا!

’کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو‘

مغربی تہذیب کا انہدام!