پینشن اور مراعات کے حصول تک انتظار، بعض ہائیکورٹ جج استعفے پر غور میں مصروف

بدھ 1 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہائیکورٹ کے بعض جج حضرات اپنے عہدے سے مستعفی ہونے پر غور کر رہے ہیں لیکن وہ اس وقت تک استعفیٰ نہیں دیں گے جب تک ان کی مدتِ ملازمت اتنی پوری نہ ہو جائے کہ انہیں تاحیات پینشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد کی مراعات حاصل ہو سکیں۔

انگریزی روزنامہ دی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ جج حضرات احتیاط کے ساتھ کیلنڈر پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ان کا استعفیٰ اُس وقت آئے جب وہ کم از کم 5 سالہ مدت پوری کر چکے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: آئینی عدالتیں شاہی دربار نہیں، جو ججز کیسز نہیں سن سکتے گھر چلے جائیں: اعظم نذیر تارڑ

حالیہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کوئی بھی ہائیکورٹ جج صرف اسی صورت میں پینشن اور دیگر مراعات کا اہل ہوتا ہے جب وہ کم از کم 5 برس تک خدمات سرانجام دے چکا ہو، بصورتِ دیگر استعفیٰ دینے والے جج اپنی مراعات سے محروم ہو جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چند جج صاحبان نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ پر غور کرتے ہوئے عدالتی انتظامیہ کے سینیئر افسران سے مشاورت کے دوران دریافت کیا کہ اس حوالے سے کوئی ایسی نظیرموجود ہے جس میں 5 برس سے کم مدت پوری کرنے والے جج کو بھی پینشن دی گئی ہو، انہیں ایک مثال اس وضاحت کے ساتھ دی گئی کہ یہ ان پر لاگو نہیں ہوتی۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کا بحران سنگین ہوگیا، درخواست گزاروں کے مقدمات تاخیر کا شکار

یہ مثال ایک ایسے جج کی تھی جس نے ہائیکورٹ میں تعیناتی سے قبل ضلعی عدالت میں طویل خدمات انجام دی تھیں، اسی سابقہ مجموعی سروس کی بنیاد پر انہیں پینشن اور ریٹائرمنٹ کی مراعات دی گئیں، حالانکہ انہوں نے ہائیکورٹ میں پانچ برس مکمل نہیں کیے تھے۔

انتظامیہ نے واضح کیا کہ یہ رعایت اُن جج صاحبان پر لاگو نہیں ہو گی جو براہِ راست وکالت یا دیگر ذرائع سے ہائیکورٹ میں جج مقرر ہوئے اور جن کی کوئی سابقہ عدالتی سروس موجود نہیں۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ پھر تقسیم، معاملات ججز کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دینے تک کیسے پہنچے؟

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اعلیٰ عدلیہ میں ممکنہ استعفوں کے بارے میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں، یہ باتیں متنازعہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد تیزی سے گردش کر رہی ہیں۔

اگرچہ ابھی تک کسی جج نے باضابطہ استعفیٰ نہیں دیا، لیکن اندرونی ذرائع کے مطابق آئندہ چند مہینوں میں چند جج استعفیٰ دے سکتے ہیں، خاص طور پر وہ جو 5 سالہ مدتِ ملازمت کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مصنوعی ذہانت نے اختلافی مضمون لکھ کر شائع بھی کردیا، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

مشرق وسطیٰ کشیدگی: پاکستان اور چین کا فوری جنگ بندی پر زور، امن کے لیے 5 نکات پیش کردیے

امت مسلمہ کے اتحاد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، طاہر اشرفی

پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں، وزیراعظم کی ہدایت

کے پی ٹی اور رومانیہ کی بندرگاہ قسطنطہ کے درمیان تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط

ویڈیو

گلگت بلتستان کے گاؤں سے وطن سے محبت اور آزادی کی قدر کا پیغام

پاکستان میں مہنگے فیول نے کیب ڈرائیورز اور مسافروں کو بھی مشکل میں ڈال دیا

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بیجنگ پہنچ گئے، ایران پر بات کریں گے: چین

کالم / تجزیہ

پاکستان کا فیصلہ کیا ہوگا؟

ہم بہت خوش نصیب ہیں، ہم بہت بدنصیب ہیں

ایک حادثہ جس نے میڈیا کی بلوغت کا ثبوت دیا