دمشق میں شام کی عبوری پارلیمنٹ کے ارکان کے انتخاب کے لیے مقامی کمیٹیوں نے ووٹنگ مکمل کر لی۔ نئی 210 رکنی اسمبلی میں سے ایک تہائی اراکین یعنی 70 براہِ راست صدر احمد الشراع خود مقرر کریں گے، جبکہ باقی دو تہائی ارکان مقامی کمیٹیوں کے ذریعے منتخب کیے جا رہے ہیں۔
یہ عمل سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد عبوری نظامِ حکومت کے قیام کا حصہ ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق قریباً 6,000 افراد نے ووٹ ڈالے اور 1,500 امیدوار میدان میں ہیں جن میں صرف 14 فیصد خواتین شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: فلسطینیوں کو شامل کیے بغیر امن ناممکن‘، جماعت اسلامی ملین مارچ کرے گی’
شام کے کرد اکثریتی شمال مشرقی علاقے اور دروز اکثریتی صوبہ السویدا اس عمل سے باہر ہیں کیونکہ وہ دمشق کے کنٹرول میں نہیں۔ صدر الشراع نے تسلیم کیا کہ انتخابی عمل نامکمل ہے لیکن موجودہ حالات میں اسے مناسب اور معتدل قرار دیا۔
یہ اسمبلی مستقل آئین کی منظوری اور آئندہ براہِ راست انتخابات کی راہ ہموار کرے گی۔











