انسانوں کے ڈی این اے میں ایلینز کے جینز شامل ہوچکے، امریکی محقق کا دعویٰ

بدھ 8 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک حیران کن تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممکن ہے انسانوں کے ڈی این اے میں اجنبی مخلوق یعنی ایلینز کے جینز شامل ہوچکے ہیں۔

امریکا کے ڈی این اے ریزونینس ریسرچ فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر میکس ریمپل کے مطابق یہ عمل انسانیت میں ممکنہ طور پر ایک جینیاتی تبدیلی کی علامت ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیویارک: آسمان میں پراسرار اشیا کی نقل و حرکت، کیا یہ خلائی مخلوق کی کارستانی ہے؟

ڈیلی میل کے مطابق ڈاکٹر ریمپل نے عام افراد اور اُن لوگوں کے ڈی این اے کا تجزیہ کیا جن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایلینز کے ذریعے اغوا ہوچکے ہیں۔

تحقیق میں ایک ہزار جینومز پراجیکٹ سے حاصل کردہ 581 خاندانوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جن میں سے 11 خاندانوں میں ایسے ’غیر والدینی‘ جینیاتی تسلسل پائے گئے جو کسی بھی والدین سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔

یہ جینیاتی تبدیلیاں 348 ایسے مختلف حصوں پر مشتمل تھیں جو قدرتی انسانی جینز سے مطابقت نہیں رکھتیں اور چونکہ ان افراد کی پیدائش 1990 سے پہلے ہوئی تھی، اس لیے جدید جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی جیسے CRISPR کا امکان مسترد کردیا گیا۔

ڈاکٹر ریمل کے مطابق اگر یہ شواہد درست ثابت ہوئے تو ممکن ہے انسانوں میں وہ افراد شناخت کیے جاسکیں جن کے اندر ’ایلین ڈی این اے‘ موجود ہے، یعنی ممکنہ ہائبرڈ نسل۔

یہ بھی پڑھیں: پراسرار سیارچہ خلائی مخلوق کا بھیجا گیا کوئی مشن ہوسکتا ہے، ہارورڈ کے سائنسدان کا دعویٰ

ان کا کہنا ہے کہ بعض ایسے لوگ جنہیں آٹزم، ADHD یا دیگر نیورولوجیکل فرق جیسے عارضے لاحق ہیں، ممکن ہے ان میں بھی یہ جینیاتی عناصر پائے جائیں، تاہم یہ محض مفروضہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تبدیلیاں انسانوں کو غیرمعمولی صلاحیتیں بھی دے سکتی ہیں، جیسے ٹیلی پیتھی، البتہ محقق نے تسلیم کیا کہ ابھی تک کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں اور مزید درست ڈیٹا کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ تجارتی جینیاتی ٹیسٹ اس سطح کی درستگی نہیں رکھتے، اس لیے انہیں نئی نسل کی مکمل جینوم سیکوینسنگ ٹیکنالوجی سے جانچنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب معروف مصنف نائجل واٹسن، جو ’پورٹریٹس آف ایلین انکاؤنٹرز ری ویزیٹڈ‘ کے مصنف ہیں، نے کہا کہ اس تحقیق کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اغوا کے دعوے عموماً نفسیاتی یا دیگر زمینی وجوہات پر مبنی ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بادلوں پر انسان کھڑے ہیں یا خلائی مخلوق؟ ویڈیو دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین دنگ رہ گئے

ان کے مطابق، ایسے کیسز پر مزید جینیاتی تحقیق مفید ثابت ہوسکتی ہے لیکن نتائج کو ثابت کرنے کے لیے غیر معمولی شواہد درکار ہوں گے۔

ڈاکٹر ریمپل کا ماننا ہے کہ اگر یہ مفروضہ درست نکلا تو یہ دریافت انسانیت کے مستقبل پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔

ان کے بقول، ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ انسانوں میں ’ایلین ہائبرڈائزیشن‘ کی کتنی مقدار کرۂ ارض کے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہے اور کن مخلوقات سے جینیاتی ملاپ زیادہ محفوظ سمجھا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان