نیویارک ریاست میں جنوری سے جون 2025 کے دوران کم از کم 66 غیر شناخت شدہ اشیا دیکھے جانے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں جنہوں نے شہریوں اور ماہرین دونوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پراسرار سیارچہ خلائی مخلوق کا بھیجا گیا کوئی مشن ہوسکتا ہے، ہارورڈ کے سائنسدان کا دعویٰ
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ رپورٹس وفاقی اداروں اور یوا ایف او تحقیقاتی مراکز کو موصول ہوئیں جن میں مختلف شکل و صورت کے اجسام شامل ہیں۔
کیا دیکھا گیا؟
عینی شاہدین نے تیز روشنی والے گولے، مثلث نما آلات اور کئی ایسے اجسام دیکھے جو عام ہوائی جہاز یا ڈرونز سے بالکل مختلف حرکت کرتے تھے۔
مزید پڑھیے: اڑن طشتری والی مخلوق کا تعلق کس سیارے سے ہے، انوکھا نقطہ نظر
کچھ UFOs نے تیزی سے زاویے بدلتے ہوئے حرکت کی جو کہ فضائی جہازوں کی عام حرکت کے برعکس ہے۔ کچھ مشاہدات میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ اجسام بالکل خاموشی سے آسمان میں گھوم رہے تھے۔
حیرت انگیز اور پراسرار مشاہدات
ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک UFO نے رات کے اندھیرے میں تیز روشنی چھوڑتے ہوئے شہر کے اوپر مختلف رنگ بدلتے ہوئے اپنی حرکت جاری رکھی۔
کئی شہریوں نے اسے اپنے فون کیمرے میں قید بھی کیا جس سے اس واقعے کی حقیقت مزید مضبوط ہوئی۔
حکومتی اور تحقیقاتی ردعمل
نیویارک کی فضائی حدود میں یہ واقعات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی حکومت اور فضائیہ یو ایف اوز کے بارے میں زیادہ شفافیت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ نیشنل یو ایف او رپورٹنگ سینٹر اور دیگر ادارے ان رپورٹس کی تصدیق اور مزید تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ اجسام زمین پر انسانی پیداوار ہیں یا کسی اور قسم کی ٹیکنالوجی۔
کیا یہ حقیقت میں خلائی مخلوق ہیں؟
اگرچہ ان رپورٹس میں یو ایف اوز کے خلائی مخلوق ہونے کی کوئی واضح تصدیق نہیں ملی لیکن ان واقعات نے عوام میں تجسس اور بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا ہم آسمانوں میں تنہا نہیں ہیں؟
مزید پڑھیں: ایلون مسک نے خلائی مخلوق کے وجود کے حوالے سے اپنی رائے بتادی
ماہرین کہتے ہیں کہ زیادہ تر یو ایف اوز دیکھے جانے والے واقعات کا سائنسی اور تکنیکی جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ اصلیت معلوم ہو سکے لیکن اس کے باوجود ان رپورٹس نے عمومی فضا کو کافی متحرک کر دیا ہے۔














