امریکا نے اسرائیل میں تقریباً 200 فوجی اہلکار فوری طور پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ غزہ کے لیے انسانی امداد کی ترسیل اور جنگ بندی کے نفاذ کی نگرانی کے لیے ایک تعاون و ہم آہنگی مرکز (Coordination Center) قائم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کا غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم
یہ اقدام حال ہی میں طے پانے والے اسرائیل حماس جنگ بندی معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ اہلکار مرکز کے قیام اور منصوبہ بندی میں مدد فراہم کریں گے۔ یہ مرکز ایسے مقام پر قائم کیا جائے گا جسے فریقین سب سے موزوں سمجھیں۔

مرکز میں مختلف شراکت دار ممالک، غیر سرکاری تنظیمیں (NGOs) اور سرمایہ کار شامل ہوں گے تاکہ امدادی سرگرمیوں کو مربوط اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ یہ ڈھانچہ تمام فریقوں کو ہم آہنگ طریقے سے اور ایسی ترتیب میں کام کرنے کا موقع فراہم کرے گا جو شہری انتظام کے مرحلے کی طرف منتقلی کو زیادہ مؤثر اور تیز بنائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل نے غزہ میں روزانہ کتنا جانی و مالی نقصان کیا؟
عہدیدار کے مطابق یہ اقدام امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کو جنگ بندی معاہدے کے مکمل نفاذ کی نگرانی کا موقع بھی فراہم کرے گا۔ اس سلسلے میں مصر، قطر اور ترکی بھی مشترکہ ٹاسک فورس کا حصہ ہوں گے۔

امریکی اہلکار نے واضح کیا کہ کسی بھی امریکی فوجی کو غزہ کے اندر تعینات نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کی تمام کارروائیاں اسرائیل کے اندر رہتے ہوئے انجام دی جائیں گی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں امن کی بحالی اور جنگ زدہ غزہ میں انسانی بحران کم کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔














