ٹک ٹاک پر وائرل ایک مختصر ویڈیو میں 2 مسلح افراد ایک گودام میں داخل ہوتے ہیں، پیٹرول چھڑکنے کے بعد فائرنگ شروع کرتے ہیں اور پھر گودام کو آگ لگا دیتے ہیں۔ بظاہر یہ کسی فلم یا ڈرامے کا سین لگتا ہے، لیکن دراصل ایک کریمنل کی واردات تھی، جو وہ ویڈیو بنا کر ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کرتا تھا۔
پشاور پولیس نے اس کی شناخت آدم خان عرف آدمے کے نام سے کی، جو ایک انتہائی مطلوب ٹک ٹاکر کریمنل تھا۔ وہ پشاور پولیس کے ساتھ راولپنڈی میں ایک مقابلے کے دوران مارا گیا۔
پشاور میں خوف کی علامت
آدمے ایک نوجوان افغان نژاد کریمنل تھا، جس کا نام پشاور میں خوف کی علامت بن چکا تھا۔ وہ کھلم کھلا بھتہ مانگتا تھا۔ پشاور پولیس کے مطابق آدمے پشاور کے پشتخرہ علاقے میں واقع ایک پیٹرولیم فیکٹری کے مالک سے بھتہ طلب کر رہا تھا، اور انکار پر اس نے گودام پر حملہ کیا اور اسے آگ لگا دی۔
مزید پڑھیں: ٹک ٹاک سے شروع ہونے والی بچوں کی لڑائی 2 زندگیاں نگل گئی، مگر کس کی؟
یہ ویڈیو اس نے خود ٹک ٹاک پر وائرل کی، جس میں اس کا اور اس کے ساتھی کا چہرہ صاف نظر آ رہا تھا۔ پولیس کے مطابق ٹک ٹاکر کریمنل آدمے کا یہی طریقہ واردات تھا۔
آدمے ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنا کر اپنی کارروائیوں کو فخریہ انداز میں دکھاتا تھا، اور اسی راستے نے اسے شہرت بھی دی اور انجام تک بھی پہنچایا۔
13 مقدمات میں مطلوب
پولیس ریکارڈ کے مطابق ادمے قتل، بھتہ خوری، ڈکیتی اور دیگر جرائم کے 13 مقدمات میں مطلوب تھا۔
گودام پر حملے کے بعد اس نے ایک اور ویڈیو میں پشاور کے نئے سی سی پی او پر الزامات لگائے، اور موقف اپنایا کہ فیکٹری مالکان سے اس کا جائیداد کا تنازع تھا۔ اس کے مطابق پولیس فیکٹری مالکان کی حمایت کر رہی تھی، جس کے باعث اس نے پولیس کو کھلے عام چیلنج کیا اور پشاور میں تخریب کاری کی دھمکی دی۔
یہی ویڈیو اس کے لیے آخری ثابت ہوئی۔
پشاور پولیس کے مطابق آدمے پشاور میں وارداتیں کرتا تھا، اس کے ساتھ دیگر لوگ بھی شامل تھے۔ وہ پولیس کارروائی سے بچنے کے لیے جگہ تبدیل کرتا رہتا تھا۔ وہ ایک گھر یا علاقے میں زیادہ دیر نہیں رہتا تھا۔
مزید پڑھیں: سورا 2 ریلیز: اوپن اے آئی کا یوٹیوب اور ٹک ٹاک کو پیچھے چھوڑنے کا عزم
ٹک ٹاک پر زیادہ مشہوری کے بعد وہ پشاور سے منتقل ہوگیا تھا اور دوسرے شہروں میں رہ کر پشاور میں وارداتیں کراتا تھا۔ وہ ہمیشہ اسلحہ لیے پھرتا اور ویڈیوز بنا کر ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کرتا تاکہ دہشت پھیلا سکے۔
پولیس کے مطابق وہ ایک معمولی اسٹریٹ کریمنل سے کریمنل گروہ کا سرغنہ بن گیا تھا، جو بھتہ، قبضہ اور دیگر بڑی وارداتوں میں ملوث ہو گیا تھا اور آدم سے آدمے بن گیا۔
پولیس مقابلہ
پولیس کے مطابق آدمے پولیس کی کریمنل لسٹ میں شامل تھا، اور پولیس اسے گرفتار کرنے کی کوشش میں تھی لیکن وہ ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔ پشاور میں گودام کو آگ لگانے کے بعد، پولیس کو کھلے عام چیلنج اور سی سی پی او پر الزامات لگانے کے بعد پولیس حکام نے اس کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی۔
خفیہ اطلاع پر پنجاب پولیس کے تعاون سے راولپنڈی میں کارروائی کی گئی۔ پولیس کے مطابق 3 گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، جس میں ادمے اور اس کے دو ساتھی مارے گئے۔
ایس ایس پی آپریشنز پشاور کی پولیس مقابلے کی تصدیق
ایس ایس پی آپریشنز پشاور مسعود احمد نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آدمے ایک انتہائی مطلوب کریمنل تھا، جو ٹک ٹاک پر خوف پھیلا رہا تھا۔ وہ 31 مقدمات میں مطلوب تھا اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی دہشت کو بڑھا رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس جب وہاں پہنچی تو کریمنلز نے فائرنگ کی، جس پر پولیس نے جوابی کارروائی کی۔
مزید پڑھیں: چینی کمپنی بائٹ ڈانس امریکا میں ٹک ٹاک کی ملکیت برقرار رکھے گی، رپورٹس میں انکشاف
آدم عرف آدمے کون تھا؟
پولیس کے مطابق آدم خان عرف آدمے ایک افغان شہری تھا، جو طویل عرصے سے پشاور میں مقیم تھا۔ اس کے خاندان کا کاروبار پاکستان میں بھی تھا، جسے پولیس بلیک منی کو وائٹ کرنے کا ذریعہ قرار دیتی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق آدمے کے والد بھی کریمنل سرگرمیوں میں ملوث تھے اور بھتہ مانگنے کے تنازع پر قتل ہوئے۔
آدمے نے جرائم کی دنیا میں کم عمری میں قدم رکھا، چھوٹے واقعات سے آغاز کیا اور جلد ہی پشاور کے قبضہ مافیا اور بھتہ گروہوں میں ایک نمایاں نام بن گیا۔
ایس ایس پی مسعود احمد نے تصدیق کی کہ ٹک ٹاکر کریمنل آدمے افغان باشندہ تھا اور طویل عرصے سے پشاور میں رہائش پذیر تھا۔
انہوں نے بتایا کہ آدمے ٹک ٹاک پر اپنی وارداتوں کی ویڈیوز کھلے عام اپ لوڈ کرتا تھا، جس سے نہ صرف وہ شہر میں خوف کی علامت بن گیا بلکہ دوسرے جرائم پیشہ مخالفین کو دھمکیاں بھی دیتا تھا۔
لاش کی تدفین پر تنازع
راولپنڈی پولیس نے کارروائی کے بعد قانونی تقاضے مکمل کرکے لاش لواحقین کے حوالے کی۔ جب اسے پشاورلایا گیا تو پہاڑی پورہ کے علاقے میں تدفین کی تیاری تھی، لیکن پولیس نے اجازت نہیں دی۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ نے ٹک ٹاک کے فروخت کی منظوری دے دی، امریکا میں نئی کمپنی بنے گی
پولیس کے مطابق آدمے کا گھر اس علاقے میں نہیں تھا، اور چونکہ وہ افغان شہری تھا، اس لیے اس کی تدفین پشاور میں نہیں ہونے دی گئی۔ پولیس نے لواحقین کو ہدایت کی کہ تدفین راولپنڈی یا افغانستان میں کی جائے۔
ٹک ٹاک پر سرگرم کریمنل گروپس
پشاور پولیس کے مطابق آدمے اپنے انجام کو پہنچ گیا، لیکن پشاور میں اس جیسے کئی کردار اب بھی سرگرم ہیں۔ متعدد کریمنل گروپس ٹک ٹاک پر فعال ہیں، جو ایک دوسرے کو کھلے عام قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں، اسلحہ دکھاتے ہیں اور بعد میں وہی دھمکیاں حقیقی جرائم میں بدل جاتی ہیں۔
پولیس کے مطابق چند ماہ قبل پشاور میں ایک کریمنل کو قتل کیا گیا، جسے ایک گروپ نے پہلے ٹک ٹاک پر قتل کی دھمکی دی تھی۔ اسی طرح مشہور ’بکسر گروپ‘ کے ایک کریمنل کو بھی مخالف گروپ نے ٹک ٹاک ویڈیوز کے ذریعے نشانہ بنانے کی دھمکی دی اور بعد میں اس کا قتل ہوگیا۔ ایسے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔
ایس ایس پی مسعود احمد کے مطابق پولیس نے سوشل میڈیا کو جرائم کے لیے استعمال کرنے والے کریمنلز کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور ایسے افراد کی فہرست تیار کرلی گئی ہے، جن پر جلد کارروائی ہوگی۔
مزید پڑھیں:صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سرکاری ٹک ٹاک اکاؤنٹ سے پہلا پیغام کیا دیا؟
اس سوال پر کہ کریمنلز ٹک ٹاک کا استعمال کیوں کرتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ شہر میں اپنی دہشت پھیلانا چاہتے ہیں، جس کے لیے ٹک ٹاک ایک آسان ذریعہ ہے۔
پشاور کے کریمنل گروپس سوشل میڈیا کو طاقتور ظاہر کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں
شہزادہ فہد پشاور کے سینئر کرائم رپورٹر ہیں اور پولیس و کریمنل گروپس پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق پشاور کے کریمنل گروپس سوشل میڈیا، خصوصاً ٹک ٹاک، کو خوف پھیلانے، تشہیر اور خود کو طاقتور ظاہر کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ لوگ اپنی ویڈیوز سے اتنے مشہور ہو جاتے ہیں کہ اگلے کو بس ایک فون کال کی دیر ہوتی ہے، بھتہ فوراً مل جاتا ہے۔ ان کے مطابق پہلے 4 مشہور گروپس ٹک ٹاک پر سرگرم تھے، لیکن اب یہ تقسیم ہو کر زیادہ ہو گئے ہیں۔ آدمے بھی انہی میں سے ایک تھا، جو اس وقت نشانے پر آیا جب اس نے پولیس کو براہِ راست دھمکی دی۔
انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر کھلے عام اسلحہ اور کریمنل سرگرمیوں کی تشہیر نوجوانوں کے ذہنوں پر منفی اثر ڈال رہی ہے، اور وہ اس طرز پر راغب ہو سکتے ہیں۔














