’مجھے یقین نہیں آرہا‘، نوبیل انعام جیتنے کے بعد ماریہ کورینا کا پہلا ردعمل آگیا

جمعہ 10 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو کو جب جمعے کے روز نوبیل امن انعام ملنے کی اطلاع ملی تو وہ حیرت میں ڈوب گئیں۔

ماریا کورینا ماچادو کی میڈیا ٹیم کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں انہیں فون پر گفتگو کے دوران حیرت سے ’میں شاک میں ہوں‘ کہتے دیکھا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش پوری نہ ہوئی، امن کا نوبیل انعام 2025 وینزویلا کی ماریہ کورینا کو مل گیا

یہ گفتگو ایڈمنڈو گونزالیز اوروریٹیا سے ہو رہی تھی، وہی سیاستدان جنہوں نے گزشتہ صدارتی انتخابات میں ماریا کورینا ماچادو کی نااہلی کے بعد اپوزیشن امیدوار کے طور پر ان کی جگہ لی تھی۔

گونزالیز، جو تقریباً ایک سال سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، نے جواب دیا کہ ’ہم خوشی کے شاک‘ میں ہیں۔

اس وقت وینزویلا میں گوشہ نشینی کی زندگی گزارنے والی 58 سالہ ماریا کورینا ماچادو نے کہا؛ ’یہ کیا ہے؟ مجھے یقین نہیں آ رہا!‘

نوبیل کمیٹی کے مطابق، ماچادو کو یہ اعزاز وینزویلا کے عوام کے جمہوری حقوق کے فروغ کے لیے ان کی انتھک جدوجہد اور آمریت سے جمہوریت تک ایک منصفانہ و پُرامن انتقال کی کوششوں پر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:امن نوبیل انعام 2025: صدر ٹرمپ پر سبقت پانے والی ماریا کورینا کون ہیں؟

ماریا کورینا ماچادو لاطینی امریکا میں جمہوری جدوجہد اور شہری جرات کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔

وہ طویل عرصے سے نکولس مادورو کی آمرانہ حکومت کے خلاف مزاحمت کرتی آئی ہیں اور دھمکیوں، گرفتاریوں اور سیاسی انتقام کے باوجود ملک میں ہی رہ کر پُرامن مزاحمت اور آزاد انتخابات کی تحریک چلاتی رہی ہیں۔

نوبیل کمیٹی نے انہیں ایک ’اتحاد پیدا کرنے والی قوت‘ قرار دیا، جنہوں نے ماضی میں تقسیم شدہ اپوزیشن کو یکجا کیا اور مختلف سیاسی گروہوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا۔

2024 کے متنازع صدارتی انتخابات کے دوران، جب انہیں امیدوار بننے سے روک دیا گیا، تو انہوں نے ایڈمنڈو گونزالیز اوروریٹیا کی حمایت کی اور شہری سطح پر ووٹوں کی گنتی، انتخابی نگرانی اور دھاندلی کے انکشافات کے لیے ایک وسیع مہم کی قیادت کی حالانکہ حکومت نے اختلاف رائے دبانے کی بھرپور کوشش کی۔

مزید پڑھیں:ہنگری کے مصنف لازلو کراسناہورکائی ادب کے نوبیل انعام کے حقدار قرار

کمیٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ماریا کورینا ماچادو نے ثابت کیا کہ جمہوری طریقے ہی امن کے ضامن ہیں۔

’وہ ایک ایسے مستقبل کی امید ہیں جہاں شہریوں کے بنیادی حقوق محفوظ ہوں اور ان کی آواز سنی جائے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لائیومشرق وسطیٰ جنگ: امریکا کی ایران کو مزید شدت سے حملوں کی دھمکی، تہران کا جواب دینے کا اعلان، مذاکرات سے انکار

مشرق وسطیٰ کشیدگی: پیٹرول کے بعد ایل پی جی کے 2 جہاز بھی پورٹ قاسم پر لنگر انداز

رجب بٹ کا اہلیہ کو طلاق دینے کے بعد نیا بیان، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا

افغانستان کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی بھارتی سازش کو برداشت نہیں کریں گے، پاکستانی مندوب

مشرق وسطیٰ کشیدگی: سعودی عرب کی مملکت سمیت دیگر عرب ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت

ویڈیو

کیا ہر بہترین دوست واقعی زندگی بھر کا ساتھی ہوتا ہے؟

پیوٹن سے سفارشیں، ٹرمپ کی دوڑیں، جنگ ختم کرنے کا اعلان، آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی اجازت مگر صرف ایک شرط پر

’برڈ آف ایشیا‘، 400 سے زیادہ میڈلز جیتنے والے پاکستانی ایتھلیٹ صوبیدار عبدالخالق کون تھے؟

کالم / تجزیہ

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟