پاکستان نے ملک کے داخلی امور پر طالبان حکومت کے ترجمان کی بیان بازی پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے داخلی مسائل پر توجہ دیں اور ہمارے معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک افغان تعلقات میں تناؤ، بابر خان خٹک کا نغمہ ’نمک حرام‘ سوشل میڈیا پر وائرل
دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ بین الاقوامی سفارتی اصولوں کے مطابق دوسرے ممالک کے امور میں مداخلت نہ کرنے کا اصول برقرار رکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی بیرونی نصیحت یا مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔
ترجمان نے افغان طالبان حکومت کے ترجمان سے کہا کہ وہ افغانستان کے داخلی مسائل پر توجہ دیں اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔
مزید پڑھیے: پاکستان میں بڑھتی دہشتگردی: کیا افغان طالبان کی ٹی ٹی پی پر گرفت کمزور ہوگئی؟
مزید برآں پاکستان توقع کرتا ہے کہ طالبان حکومت عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں اور دوحہ عمل کے تحت اپنے ذمہ داریوں کو پورا کرے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی زمین کو دوسرے ممالک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
مزید پڑھیں: افغان طالبان جارحیت کیخلاف غیور بلوچ قبائل پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے
ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت کو بے بنیاد پروپیگنڈے کی بجائے ایک جامع اور حقیقی نمائندہ حکومت کی تشکیل پر توجہ دینی چاہیے۔













