شاور سے نہانا بالٹی اور مگے کی مدد سے نہانے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہوتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے سر پر لگے اس ’جھرنے‘ میں اربوں بیکٹیریا چھپے ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نہانا صبح بہتر یا رات کو، یا ایک اور کام بھی ضروری؟
جب آپ شاور کھولتے ہیں تو شاور ہیڈ اور اس سے جڑے پائپ بیکٹیریا اور فنگس کا مسکن ہوتے ہیں اور گرم پانی اور صابن کے ساتھ صفائی کی توقع کے برعکس شاور کے پہلے چند قطرے آپ کے چہرے پر بیکٹیریا بھی پھینک سکتے ہیں۔
بیکٹیریا کیسے جمع ہوتے ہیں؟
شاور کے ہیڈ اور پائپ میں ایک خوردبینی بایوفلم بنتی ہے جو بیکٹیریا اور دیگر مائیکروبس کا چھوٹا شہر ہوتا ہے۔ یہ بایوفلم گرم، نم اور غیر حرکت پذیر ماحول میں آسانی سے بن جاتی ہے۔
مزید پڑھیے: ڈپریشن میں کمی چاہتے ہیں تو گرم پانی سےنہانا شروع کر دیں
ہر بار شاور چلانے پر یہ مائیکروبس پانی کے ساتھ آپ کے چہرے پر چھڑکتے ہیں۔
خطرہ کتنا؟
زیادہ تر بیکٹیریا بے ضرر ہوتے ہیں لیکن بعض بیکٹیریا جیسے مائیکوبیکٹیریا اور فنگس کی کچھ اقسام ممکنہ طور پر بیماری کا باعث بن سکتی ہیں۔
خاص طور پر اگر شاور کا استعمال کم ہو یا پانی کا درجہ حرارت معتدل ہو تو لیجنیلا نامی بیکٹیریا جنم لے سکتے ہیں جو سانس کی بیماری کا باعث بنتے ہیں۔
بچاؤ کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
شاور کے ہیڈ اور ہوز کا مواد بہت فرق ڈال سکتا ہے۔ اسٹینلیس اسٹیل یا کروم شدہ میٹل کے ہیڈ اور خاص قسم کے پلاسٹک کے ہوزز بایوفلم کی تشکیل کو کم کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پلاسٹک پیراسیٹامول میں تبدیل، سائنسدانوں نے بیکٹیریا سے دہرا کام لے لیا
شاور شروع کرنے سے پہلے پانی کو 60 ڈگری سینٹی گریڈ (140 فارن ہائیٹ) تک گرم کر کے چند منٹ چلائیں تاکہ بیکٹیریا دھل جائیں۔
شاور استعمال کرتے ہوئے، پہلے پانی کو چند منٹ بہنے دیں اور اس کے پانی سے استفادہ کریں تاکہ پانی کے ریلے کے ساتھ بیکٹیریا بہہ جائیں۔
شاور کے ہیڈ کو باقاعدگی سے گرم پانی سے صاف کریں، اسکیل دور کرنے کے لیے لیموں کے رس میں بھگوئیں۔
ایک اور ضروری احتیاط
باتھ روم کی ہوا کو نکالنے کے لیے ایکسٹریکٹر فین کا استعمال کریں تاکہ ہوا میں موجود بیکٹیریا کے ذرات کم ہوں۔
اگر کوئی گھر میں بیمار یا کمزور ہو تو ہر سال شاور کا ہوز اور ہیڈ تبدیل کرنا بہتر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: باتھ روم میں فالج ہونے کی وجہ کیا ہے؟
آپ کا شاور ایک چھوٹا ماحولیاتی نظام ہے جہاں مائیکروب اپنی بستیاں بناتے ہیں۔ انہیں مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں لیکن احتیاطی تدابیر سے ان کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔














