پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ کابل میں طالبان حکمرانوں نے شہری آبادیوں کے اندر اپنے اڈے اور کیمپ قائم کر رکھے ہیں اور عام شہریوں کو بطور ہیومن شیلڈ استعمال کیا جا رہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹویئٹر) پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان سے منسلک تنظیمیں، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور تحریک طالبان افغانستان شامل ہیں، انسانی جانوں کی قدر نہیں کرتیں۔
کابل میں طالبان حکمرانوں نے شہری آبادیوں میں اپنے اڈے اور کیمپ بناۓ ھیں۔ عام شہریوں کو ھیومن شیلڈ کے طور استعمال کیا جاتا ھے ۔ طالبان کی دونوں فرنچائز TTPاورTTAکے نزدیک انسانی جانوں کی کوئ اھمیت نہیں۔ جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والے بھول گئے ھیں مسجدوں کے نمازی سکولوں کے طالب علم بچے…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) March 18, 2026
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ماضی میں مساجد کے نمازیوں، اسکولوں کے طلبہ اور بچوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن عناصر نے دہائیوں تک پاکستان سے فائدہ اٹھایا، ان میں وفاداری کا فقدان ہے۔
یہ بھی پڑھیے افغان کرکٹر راشد خان کے خاندان کے ہمراہ پشاور میں قیام پر خواجہ آصف کا شدید ردعمل
خواجہ آصف نے اس صورتحال کو پاکستان کی پالیسی کی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان غلطیوں کا ازالہ کیا جائے اور تمام معاملات کا مکمل حساب لیا جائے گا۔











