مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ خواجہ سعد رفیق نے حالیہ انکشاف میں بتایا ہے کہ ان کی ایک سیاسی پیشگوئی، جو انہوں نے رکنِ قومی اسمبلی شیر افضل مروت سے متعلق کی تھی، حیران کن طور پر سچ ثابت ہوئی اور انہوں نے یہ بات شیر افضل مروت کو پہلے ہی بتا دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے کس کے کہنے پر سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد کیا، طارق فضل نے بتادیا
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ شیر افضل مروت سے پہلی اتفاقیہ ملاقات چند ماہ پیشتر اسپیکر چیمبر میں ہوئی، اس وقت وہاں دیگر اراکین اسمبلی بھی موجود تھے وہ جا رہے تھے اور میں آرہا تھا۔ مصافحہ کے بعد میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ بُرا نہ مانیں تو ایک بات کہدوں جس پر وہ بولے ضرور تو میں نے انہیں کہا کہ جب عمران خان جیل سے واپس آئیں گے تو جس شخص کو سب سے پہلے پی ٹی آئی سے نکالیں گے وہ شخصیت آپ ہونگے۔
محترم شیر افضل مروت سے پہلی اتفاقیہ ملاقات چند ماہ پیشتر سپیکر چیمبر میں ھوئ ، وھاں دیگر اراکین اسمبلی بھی موجود تھے
وہ جا رھے تھے اور میں آ رھا تھا
مصافحہ کے بعد میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ بُرا نہ مانیں تو ایک بات کہدوں ، بولے ضرور !عرض کیا جب عمران خان جیل سے واپس آئیں…
— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) October 15, 2025
انہوں نے بتایا کہ دو ماہ نہیں گزرے تھے کہ پارلیمنٹ لاجز میں گزرتے ہوئے پھرآمنا سامنا ہوگیا، عمران خان صاحب اس وقت تک شیر افضل صاحب کو پارٹی سے نکال چکے تھے۔ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھتے ہی ہنسنا شروع کر دیا، شیر افضل بولے آپ کی پیش گوئی وقت سے پہلے ہی پوری ہو گئی، میں نے پوچھا اتنا جلدی کیسے ہوا تو انہوں نے بتایا کہ میرا اخراج خان صاحب کی ہمشیرہ اور اہلیہ کی باہمی گروپنگ نہ جوائن کرنی کا شاخسانہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی مراد سعید کے قریب کیوں اور علی امین سے کیا غلطی ہوئی؟ عمران خان کی نئی چال
خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے خیبر پختونخواہ کے نئے وزیر اعلیٰ بھولے بادشاہ لگتے ہیں ، وہ بھی عشق ِعمران میں مبتلا ہیں، اور یہ مڈل کلاسیےسیاسی کارکن لیڈر اور جماعت کے عشق میں لڑتے لڑتے تنِ تنہا تلوار سونت کرمخالف کی صفوں میں گھُس جاتےہیں اور سب سے پہلے مارے جاتے ہیں۔ اور خوش قسمتی سے بچ کر واپس آ جائیں تو اپنے مار دیتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان غیر منظم اور نیم جمہوری جماعتوں میں سازشی جیتتے ہیں تلخ سچ بولنے والے نہیں۔ مڈل کلاسیوں کو تھپکی لڑنے کے لیے دی جاتی ہے حکمرانی کے لیے نہیں، وقت آنے پر سہیل آفریدی صاحب کے عشق کا بھوت خود عمران خان صاحب ہی اتاریں گے۔














