پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ اکتوبر کو چین سے لانچ کیا جائے گا

بدھ 15 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی خلائی ایجنسی سپارکو نے اعلان کیا ہے کہ ملک کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ HS-1 19 اکتوبر کو چین کے جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے خلا میں بھیجا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی مکمل بحال کردی گئی، پی ٹی سی ایل

ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ ایک جدید کیمرہ ٹیکنالوجی ہے جو سیٹلائٹس میں استعمال ہوتی ہے تاکہ زمین اور خلا کا تفصیلی مطالعہ کیا جا سکے۔ روایتی سیٹلائٹ کیمروں کے برعکس جو چند رنگوں (سرخ، سبز، نیلا) کو کیپچر کرتے ہیں اور ہائپر اسپیکٹرل کیمرے سینکڑوں بہت باریک رنگوں کو کیپچر کرتے ہیں جس سے وہ روشنی کے بہت ہی معمولی فرق بھی پہچان سکتے ہیں جو انسانی آنکھ یا عام سیٹلائٹس نہیں دیکھ سکتے۔

ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ کے فوائد اور اہمیت

بدھ کو جاری کردہ سپارکو کے بیان کے مطابق یہ مشن پاکستان کے قومی خلائی پروگرام میں ایک اہم سنگ میل ہے جو ملک کو زراعت، آفات کے انتظام، شہری ترقی اور ماحولیاتی نگرانی میں جدید خلائی ٹیکنالوجی کے دور میں داخل کرے گا۔

زراعت کے شعبے میں HS-1 ہائپر اسپیکٹرل ڈیٹا کے ذریعے درست فارمنگ کو ممکن بنائے گا۔

مزید پڑھیے: اسپیس ایکس کا مشن کامیاب، ناسا اور ناوا کے اسپیس ویذر سیٹلائٹس خلا میں روانہ

یہ سیٹلائٹ فصل کی صحت، مٹی کی نمی اور آبپاشی کے نمونوں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرے گا، جس سے پیداوار کا تخمینہ 15 سے 20 فیصد تک بہتر ہوگا اور غذائی تحفظ میں نمایاں مدد ملے گی۔

شہری ترقی اور ماحولیاتی نگرانی میں کردار

سیٹلائٹ کے جدید سینسر ماحولیاتی تبدیلیوں کی نگرانی، بنیادی ڈھانچے کا نقشہ بنانے اور شہری ترقی کے نمونوں کا تجزیہ کرنے میں مدد کریں گے۔

 HS-1 منفرد اسپیکٹرم کے ذریعے انسانی ساختوں کی شناخت کرے گا، جو پائیدار شہر کی منصوبہ بندی، زمین کے استعمال کی تشخیص، اور وسائل کے مؤثر انتظام میں معاون ہوگا۔

آفات کے انتظام اور ماحولیاتی نگرانی

یہ سیٹلائٹ موسمیاتی تبدیلیوں کی ابتدائی وارننگ اور فوری ردعمل کے لیے اہم آلہ ثابت ہوگا۔

سیٹلائٹ کی اعلیٰ تصویری صلاحیتوں سے خاص طور پر قراقرم ہائی وے اور شمالی پاکستان میں سیلاب کی پیش گوئی، لینڈ سلائیڈز کی نگرانی اور جیو ہیزرڈز کا اندازہ ممکن ہوگا۔

مزید پڑھیں: 1990 کی دہائی میں کی گئی ماحولیاتی پیش گوئیاں درست ثابت، سیٹلائٹ تصاویر سے بڑا انکشاف

مزید برآں HS-1  آفات کے بعد کی تشخیص، نقل و حمل کے نیٹ ورک کا تجزیہ اور آبی وسائل کی ماڈلنگ میں مدد دے گا اور سیلاب، زلزلے، جنگلات کی کٹائی اور زمین کے خراب ہونے کی بروقت معلومات فراہم کرے گا۔

پاکستان کے خلائی پروگرام کی توسیع

HS-1، پاکستان کے موجودہ ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس PRSS-1 (جولائی 2018)، EO-1 (جنوری 2025)، اور KS-1 (جولائی 2025) کے ساتھ شامل ہو کر ملک کے خلائی انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط کرے گا۔

سپارکو کے مطابق یہ مشن قومی خلائی پالیسی اور سپارکو کے وژن 2047 کے مطابق ہے جو پاکستان کو خلائی ٹیکنالوجی اور جدت طرازی میں عالمی صف اول پر لانے کا عزم رکھتا ہے۔

بین الاقوامی تعاون اور مستقبل کے منصوبے

گزشتہ ماہ سپارکو کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا تھا کہ ایجنسی خلائی اطلاقات کو آفات کے انتظام کے نظام میں شامل کر رہی ہے تاکہ سائنس اور بین الاقوامی تعاون کی مدد سے قدرتی آفات کے لیے بہتر تیاری کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کا خلائی میدان میں بڑا قدم، جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ چین سے لانچ

جولائی میں وزارت خارجہ نے چین سے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کی کامیاب لانچ کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد پاکستان کی زراعت کی نگرانی اور آفات کے انتظام کو مضبوط بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لیے میٹا کی نئی حکمتِ عملی

یوٹیوبر آئی شو اسپیڈ کے دورۂ کینیا نے انٹرنیٹ اور نیروبی کی سڑکوں پر ہلچل کیوں مچا رکھی ہے؟

پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان 40 جے ایف-17 طیاروں اور ڈرونز کی فروخت پر مذاکرات جاری، رائٹرز کی رپورٹ

کشمیر کی وادی شکسگام ہماری ہے، چین نے بھارت کی چھٹی کرادی

سیکیورٹی نے عامر خان کو اپنے ہی دفتر سے باہر کیوں نکال دیا؟

ویڈیو

سخت سردی میں سوپ پینے والوں کی تعداد میں اضافہ

سانحہ 9 مئی: سہیل آفریدی کی موجودگی ثابت، ایف آئی آر میں نامزد نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کریں گے، وکیل ریڈیو پاکستان

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

کالم / تجزیہ

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘