بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں صحت مند سیاسی ماحول کو فروغ دینے کی خواہاں ہے، جس کا آغاز قومی پارلیمنٹ سے کیا جائے گا، اگرچہ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ اس طرح کی تبدیلیاں فوراً نہیں لائی جا سکتیں۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کے اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، وزیر قانون
وزیر داخلہ نے یہ بات بدھ کے روز ڈھاکہ میں بنگلہ دیش-چین فرینڈشپ کانفرنس سینٹر میں منعقدہ مکالمے ’ہیومن رائٹس کمیشن آرڈیننس 2025 کے حوالے سے نئے پارلیمنٹ کی توقعات‘ کے دوران بطور مہمانِ خصوصی کہی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مرحلہ وار منفی سیاسی روایات کو بدل کر جمہوری اصول اور تعمیری سیاسی رویہ قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہم اچھے سیاسی روایت قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس عمل کا آغاز جتیا سنگساد (پارلیمنٹ) سے کرنا چاہتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے پچھلے دور کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابقہ آمریت کے دوران ریاستی مشینری کے استعمال سے سنگین انسانی حقوق کی پامالی ہوئی، اور موجودہ حکومت آئین میں درج بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کا انتخابی منشور بھی انسانی حقوق کے تحفظ اور انسانی حقوق کمیشن و ٹروتھ اینڈ ہیلنگ کمیشن کے قیام کے وعدے پر مشتمل ہے۔
صلاح الدین احمد نے کہا کہ حکومت کا مقصد مرحلہ وار بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کے معیار کو بین الاقوامی سطح تک لے جانا ہے، مگر مکمل حقوق کی حفاظت میں وقت لگے گا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ون ڈے میں پاکستان کا ناپسندیدہ ریکارڈ
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ پہلے جاری کردہ ہیومن رائٹس کمیشن آرڈیننس میں کچھ ترامیم کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جو پارلیمنٹ میں بل کی شکل میں پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ 133 آرڈیننسز میں سے کئی کو برقرار رکھا جا سکتا ہے جبکہ کچھ پر بحث اور ترمیم کی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ آئینی شقوں کے تحت آرڈیننسز کو پارلیمنٹ کی پہلی نشست کے 30 دن کے اندر منظور، ترمیم یا ختم ہونا ضروری ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آرڈیننس کو نئی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں ترجیحی ایجنڈا میں شامل کرنے کا ارادہ ہے، جبکہ دیگر آرڈیننسز بھی وزارت داخلہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔














