ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر مہلک حملے کی ذمہ دار امریکی فوج قرار، امریکی اخبار

بدھ 11 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے اسکول پر ہونے والا حملہ امریکی فوج کی جانب سے ہدف کے تعین میں غلطی کا نتیجہ تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے میں بچوں سمیت 175 افراد ہلاک ہوئے، جسے حالیہ دہائیوں کی سب سے بھیانک فوجی غلطیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نئے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی اطلاعات

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ 28 فروری کو شجرہ طیبہ ایلیمینٹری اسکول پر ہونے والا ٹوما ہاک میزائل کا حملہ امریکی فوج کی کارروائی کے دوران پیش آنے والی غلطی تھی۔ اصل ہدف ایک ایرانی فوجی اڈہ تھا، لیکن پرانے ڈیٹا کے استعمال کی وجہ سے میزائل اسکول کی عمارت پر جا گرا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے افسران نے ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کی جانب سے فراہم کردہ پرانا ڈیٹا استعمال کیا، اور یہ سوال اب بھی باقی ہے کہ ڈیٹا کو ڈبل چیک کیوں نہیں کیا گیا۔ امریکی فوجی حکام نے کہا ہے کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور کئی اہم سوالات کے جواب ابھی سامنے نہیں آئے۔

اخبار نے واضح کیا کہ اس مہلک حملے میں بچوں سے بھرا اسکول نشانہ بنایا جانا ایک بڑی اور خوفناک فوجی غلطی ہے، اور چونکہ ٹوما ہاک میزائل صرف امریکی فوج استعمال کرتی ہے، اسی لیے اس کا ذمہ دار براہِ راست امریکا ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران سے بات چیت کرسکتا ہوں لیکن یہ مذاکرات کی شرائط پر منحصر ہوگا، صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے پہلے اس حملے کا الزام ایران پر لگا چکے ہیں، تاہم مذکورہ رپورٹ کے مطابق حقیقت میں یہ غلطی امریکی فوج کی جانب سے ہوئی اور اسکول کے بچوں کی ہلاکت کی مکمل ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp