چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِاعظم عمران خان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی اور دیگر تنازعات کے حل کی پیشکش کی ہے، بشرطِ یہ کہ انہیں پیرول پر رہا کیا جائے۔
عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں، جہاں وہ 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت 9 مئی کے مظاہروں سے متعلق مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان مذاکرات کے لیے تیار، لیکن بات صرف ’بڑوں‘ سے ہوگی، وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور
اڈیالہ جیل کے باہرعمران خان سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ آج عمران خان نے پیغام دیا ہے کہ انہیں پیرول پر رہا کیا جائے تو وہ افغانستان کا مسئلہ حل کردیں گے۔
دوسری جانب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار دہشت گردی کے معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی حالیہ دنوں میں مسلح جھڑپوں میں تبدیل ہوگئی، جن میں دونوں جانب متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، تین روزہ جھڑپوں کے بعد آج ایک عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔
اس سے قبل عمران خان کی بہن نورین نیازی نے بھی بتایا کہ پی ٹی آئی کے بانی کو افغان پناہ گزینوں کی جلد بازی میں ملک بدری پر دکھ ہے، خاص طور پر اس کے بعد جب پاکستان نے انہیں دہائیوں تک پناہ دی۔
نورین کے مطابق عمران خان نے کہا کہ امن قائم کرنا سیاست دانوں کا کام ہے، اور اگر انہیں پیرول پر رہا کیا گیا تو وہ اس مقصد کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔
’انہیں سوچنا چاہیے کیونکہ پاکستان کے حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ 30 لاکھ لوگ ملک چھوڑ چکے ہیں، بین الاقوامی کمپنیاں ملک چھوڑ کر جا رہی ہیں اور غیرملکی سرمایہ کاری ختم ہو گئی ہے۔‘
عمران خان کی بہن نے شبہ ظاہر کیا کہ ان کے بھائی کی پیشکش شاید قبول نہ کی جائے۔ ’عمران خان کہتے ہیں کہ ملک کو امن کی ضرورت ہے، اور امن صرف سیاسی استحکام سے آتا ہے۔‘
مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا حکومت کا وفد افغانستان جانے کو تیار، کیا امن و امان میں بہتری آسکتی ہے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عمران خان کے اکاؤنٹ پر جاری پیغام میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی بناتے وقت تمام متعلقہ فریقین کو شامل کیا جانا چاہیے، خواہ وہ مقامی قبائل ہوں، خیبرپختونخوا کی حکومت، وفاقی حکومت یا افغان حکومت۔
’دہشت گردی کا مسئلہ افغان حکومت سے مذاکرات کے بغیر حل نہیں ہو سکتا۔‘
عمران خان نے خیبرپختونخوا کی نئی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کر کے دہشت گردی کے خلاف ایک مؤثر اور جامع حکمتِ عملی تیار کرے تاکہ صوبے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔













