وزیراعظم کے مشیر اور ن لیگ کے سینیئر رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہماری پالیسی واضح ہے کہ ہمسایہ ملک چاہے مشرق کی طرف ہو یا مغرب کی طرف، ہم کسی پر جارحیت نہیں کریں گے، لیکن ہم پر حملہ ہوا تو ادھار نہیں رکھیں گے اور بھرپور جواب دیں گے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب شاید اسکور 0-6 نہیں بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ ہو، افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے، ہمیشہ ان کے ساتھ بھائیوں جیسا سلوک رکھا ہے، لیکن افسوس ہے کہ ان کی طرف سے ہمیشہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اب مزید جوانوں اور افسروں کے جنازے نہیں اٹھا سکتے۔
یہ بھی پڑھیے: ایک جماعت نے گڈ اور بیڈ طالبان کی بحث شروع کی جس کا خمیازہ آج ملک بھگت رہا ہے، عطا اللہ تارڑ
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ن لیگ کی یہ پالیسی کبھی نہیں رہی کہ سیاسی جماعتوں پر پابندی لگے، لیکن تحریک لبیک نے جب بھی احتجاج کیا، وہاں تشدد ہلاکتوں تک پہنچا، پابندی کا فیصلہ وفاقی حکومت پنجاب حکومت کی سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو دہشتگردی کے خلاف اعتماد میں لینا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، دہشتگردوں سے پچھلے کئی سالوں سے مذاکرات ہی کررہے ہیں لیکن دہشتگردی اب برداشت نہیں ہوگی۔ مذاکرات کے لیے اپنی کارروائیاں بند کرنی ہوگی تب ان کے ساتھ بیٹھ کر بات ہوسکتی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے منتخب ہونے کے بعد جیسے گفتگو کی ان کو کیسے اعتماد میں لیا جائے گا؟ یہ ایک کلٹ ہے جو ملک میں انتشار چاہتا ہے۔ ہم بات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن وہ ہی انکاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبے سے گُڈ طالبان کا خاتمہ کیا جائے گا، علی امین گنڈاپور
رانا ثنا کا کہنا تھا کہ گُڈ اور بیڈ طالبان کا نظریہ بری طرح ناکام ہوگیا ہے، یا تو کوئی دہشتگرد ہے یا نہیں ہے، جو قانون کی پاسداری کرے ان سے ہم بات کرنے کو تیار ہے لیکن کسی کا نظریہ تشدد اور دہشتگردی ہے تو بات نہیں ہوگی۔ انڈیا پاکستان میں دہشتگردی میں پوری طرح سے ملوث ہے اور انہوں نے کبھی اس کا انکار بھی نہیں کیا ہے۔













