مشینی دور میں بھی زندہ ہے بلاک پرنٹنگ کی روایت

اتوار 19 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جدید ٹیکنالوجی اور مشینی پرنٹنگ کے اس دور میں بھی ہاتھ سے کی جانے والی بلاک پرنٹنگ کی روایت آج بھی اپنی پہچان برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ فن نہ صرف کپڑے پر رنگوں کی زبان بولتا ہے بلکہ اس میں نسلوں کی محنت، صبر اور جمالیاتی احساس جھلکتا ہے۔

پرانے کاریگر آج بھی لکڑی کے تراشیدہ بلاکس سے دوپٹے، چادریں اور لباس پر نقش و نگار ابھارتے ہیں۔ ہر چھاپ کاریگر کی سانسوں کے ساتھ جڑی ایک دعا ہوتی ہے، جو رنگوں میں زندگی بھرتی ہے۔ مگر افسوس کہ یہ روایت اب زوال کی طرف بڑھ رہی ہے۔

بلاک پرنٹنگ کے کاریگر سید مطاہر حسین کا کہنا ہے کہ اب ہمارے پاس اتنے گاہک نہیں آتے، کیونکہ بلاک پرنٹنگ کا وہ پرانا حسن لوگوں کو بھاتا نہیں۔ ہم ایک دو دن میں ایک دوپٹہ تیار کرتے ہیں، جبکہ مشین چند گھنٹوں میں درجنوں چھاپیں نکال دیتی ہے، اور لوگ سستا ہونے کی وجہ سے وہی خرید لیتے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہ ہنر ماند ضرور پڑ رہا ہے، مگر بلاک پرنٹنگ اب بھی اس سرزمین کی تہذیبی روح کا رنگین استعارہ بنی ہوئی ہے۔ مزید جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لائیومشرق وسطیٰ جنگ: امریکا کی ایران کو مزید شدت سے حملوں کی دھمکی، تہران کا جواب دینے کا اعلان، مذاکرات سے انکار

مشرق وسطیٰ کشیدگی: پیٹرول کے بعد ایل پی جی کے 2 جہاز بھی پورٹ قاسم پر لنگر انداز

رجب بٹ کا اہلیہ کو طلاق دینے کے بعد نیا بیان، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا

افغانستان کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی بھارتی سازش کو برداشت نہیں کریں گے، پاکستانی مندوب

مشرق وسطیٰ کشیدگی: سعودی عرب کی مملکت سمیت دیگر عرب ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت

ویڈیو

کیا ہر بہترین دوست واقعی زندگی بھر کا ساتھی ہوتا ہے؟

پیوٹن سے سفارشیں، ٹرمپ کی دوڑیں، جنگ ختم کرنے کا اعلان، آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی اجازت مگر صرف ایک شرط پر

’برڈ آف ایشیا‘، 400 سے زیادہ میڈلز جیتنے والے پاکستانی ایتھلیٹ صوبیدار عبدالخالق کون تھے؟

کالم / تجزیہ

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟