آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت سے متعلق خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ایندھن کی کسی قسم کی کمی نہیں، صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔
ترجمان اوگرا کے مطابق درآمدی پیٹرولیم مصنوعات کی کلیئرنس میں وقتی تاخیر ضرور ہوئی تھی، تاہم اب تمام معاملات مکمل طور پر معمول پر آ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست، اوگرا سے جواب طلب
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کا ڈیزل بردار جہاز اور وافی کمپنی کا پیٹرول بردار جہاز کلیئر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں ایندھن کی ترسیل معمول کے مطابق جاری ہے۔
ترجمان کے بقول کاروباری سرگرمیاں بھی حسبِ معمول جاری ہیں اور سپلائی چین کسی قسم کے دباؤ کا شکار نہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومتِ سندھ کی جانب سے سندھ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کے نفاذ کے باعث کراچی پورٹ سے پیٹرولیم مصنوعات کی کلیئرنس میں تاخیر سے ملک میں قلت پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے وزیراعلیٰ سندھ کو ایک ہنگامی خط لکھ کر خبردار کیا تھا کہ اگر پیٹرولیم مصنوعات کے کارگو اور بندرگاہ پر کھڑے جہازوں کی فوری کسٹم کلیئرنس نہ کی گئی تو ملک بھر میں سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ کیخلاف اقدامات، صدر نے ترمیمی بل کی منظوری دے دی
او سی اے سی نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ڈسچارج ہونے والے کارگو اور بندرگاہوں پر موجود جہازوں کے لیے فوری کلیئرنس ناگزیر ہے تاکہ ایندھن کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔














