قیدیوں کی سیاسی گفتگو پر پابندی آمرانہ سوچ کی عکاسی ہے، پی ٹی آئی

جمعرات 23 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے قیدیوں کی سیاسی گفتگو پر پابندی سے متعلق رول 265 کی بحالی پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے ایک ایسے قانون کو دوبارہ زندہ کیا ہے جو غلامی اور آمرانہ دور کی علامت تھا۔

یہ بھی پڑھیں: عدالتی فیصلہ مسترد کرتے ہیں، 9 مئی کیسز کے فیصلے پر پی ٹی آئی رہنماؤں کا ردعمل

پی ٹی آئی کے اعلامیے کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پنجاب حکومت کی درخواست پر رول 265 کو بحال کر دیا، جو قیدیوں کو سیاسی گفتگو سے روکتا ہے۔ پارٹی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عمران خان جیسے قومی رہنما کی آواز دبانے اور ان کے سیاسی اظہار کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ مارچ 2025 میں عدالت نے واضح طور پر حکم دیا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتیوں کی فہرست کے مطابق منگل اور جمعرات کو ملاقاتیں کرائی جائیں، تاہم اڈیالہ جیل انتظامیہ عدالتی فیصلوں کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کروں گا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی

پارٹی کے مطابق آج بھی عدالت نے ملاقات کی اجازت دی مگر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی، بیرسٹر سلمان اکرم راجہ اور جنید اکبر کو جیل کے دروازے پر روک دیا گیا اور ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔

پی ٹی آئی نے سوال اٹھایا کہ اگر عدالت اپنے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کرا سکتی اور جیل انتظامیہ کھلم کھلا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرے تو انصاف کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟

’پابندی عمران خان کی آواز کو مکمل دبانے کی سازش ہے‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک طرف عدالتی فیصلوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے، دوسری جانب سیاسی قیدیوں کے لیے ایک آمرانہ قانون بحال کر کے اُن کے منہ پر تالے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے، جو عمران خان کو مکمل طور پر خاموش کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’میرے ڈولے چیک کرو‘، بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل میں وکلا سے کیا گفتگو کرتے ہیں؟

اعلامیے میں کہا گیا کہ عمران خان پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قائد ہیں، اُن کی سیاست پر بات کرنا کوئی جرم نہیں بلکہ ہر شہری کا حق ہے۔ ایسے قوانین اور فیصلے جو سیاسی رہنماؤں کی زبان بندی کے لیے استعمال ہوں، وہ جمہوریت نہیں بلکہ فسطائیت کی بدترین شکل ہیں۔

پی ٹی آئی نے مؤقف اپنایا کہ عمران خان کی آواز قید نہیں کی جا سکتی، اُن کے نظریے کو کسی ظالمانہ فیصلے یا آمرانہ قانون سے دبایا نہیں جا سکتا۔ ترجمان نے کہا کہ عمران خان بولیں گے اور انشاءاللہ پورا پاکستان اُن کے ساتھ بولے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز

ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مکروہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر

گلگت بلتستان انتخابات سبوتاژ کرنے کے لیے پی ٹی آئی افراتفری پر اتر آئی

ویڈیو

مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟

صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء

عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

کالم / تجزیہ

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی