پاکستان نے اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں اور مقاصد سے اپنی گہری وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے پیچیدہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک زیادہ جامع، نمائندہ اور اصلاح شدہ کثیرالجہتی نظام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کے صدر کی اسحاق ڈار سے ملاقات، اسلاموفوبیا کیخلاف پاکستان کے کردار کی تعریف
اقوام متحدہ کے قیام کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر جمعرات کی شام اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ دنیا اس وقت بڑھتی ہوئی عدم استحکام، وسیع تر عدم مساوات، اور عالمی اداروں پر اعتماد کے فقدان جیسے مسائل سے دوچار ہے، حالانکہ یہ ادارے عالمی امن و خوشحالی کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے تھے۔
For eight decades, the @UN has been working to advance peace, dignity and equality for all on a healthy planet.
From feeding the hungry and vaccinating children to defending human rights and responding to crises, the #UN saves lives and supports communities. pic.twitter.com/IkB8Z7Avkp
— UN Fiji, Solomon Islands, Tonga, Tuvalu & Vanuatu (@UNinFiji) October 23, 2025
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور فلسطین جیسے حل طلب تنازعات اب بھی لاکھوں انسانوں کو ان کے حقِ خودارادیت سے محروم کر رہے ہیں، جب کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور عالمی مالیاتی ڈھانچے کی خامیوں نے ترقی پذیر ممالک میں عدم مساوات اور قرض کے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
’پاکستان اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں اور مقاصد سے گہری وابستگی رکھتا ہے، ہمارا یقین ہے کہ ایک جامع، نمائندہ اور اصلاح شدہ کثیرالجہتی نظام ہی مشترکہ سلامتی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔‘
مزید پڑھین: پاکستان خواتین کے شانہ بشانہ ترقی کے عزم پر قائم ہے، وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا اقوام متحدہ اجلاس سے خطاب
وزیرِخارجہ نے وضاحت کی کہ کثیرالجہتی نظام میں اصلاح اقوام متحدہ کی نفی نہیں بلکہ اسے مضبوط بنانے اور مؤثر بنانے کا واحد راستہ ہے۔
’اقوام متحدہ کو خود کو مسلسل ارتقا پذیر رکھنا چاہیے، ساختی کمزوریوں کو دور کرنا چاہیے، ترقی پذیر ممالک کو زیادہ مضبوط آواز دینا چاہیے، اور تمام ممالک کے لیے منصفانہ نتائج فراہم کرنا چاہییں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی تعلقات میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو تسلیم کیا ہے اور امن مشنز، انسانی امداد، ترقیاتی تعاون اور ماحولیاتی استحکام کے شعبوں میں ایک فعال اور مثبت شراکت دار کے طور پر کردار ادا کیا ہے۔
’پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز میں سب سے زیادہ فوجی دستے فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اقوام متحدہ کے قدیم ترین مشن کا میزبان ہونے کے ناطے، ہم عالمی استحکام کے لیے اقوام متحدہ کے امن مشن کو ایک کلیدی ذریعہ سمجھتے ہیں۔‘
مزید پڑھیں: اقوام متحدہ میں پاکستان کی حالیہ اہم تقرریوں کا سہرا قوم کے سر جاتا ہے، اسحاق ڈار
وزیر خارجہ نے پاکستان کے 2025-26 کے لیے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے سلامتی کونسل میں موجودہ دور کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد امن، انصاف اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ رواں سال جولائی میں سلامتی کونسل کی پاکستان کی صدارت کے دوران قرارداد 2788 کی متفقہ منظوری اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان تنازعات کے پرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کو عالمی سفارت کاری کا محور بنانا چاہتا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کی گئی یواین80 انیشی ایٹو کو ایک بروقت اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اسے موجودہ عالمی حقائق کے مطابق زیادہ جواب دہ اور نمائندہ بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات اور بنیادی مفادات اقوام متحدہ کے ایجنڈے کے مرکز میں رہنے چاہییں، خصوصاً 2030 کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے تناظر میں۔
مزید پڑھیں: عالمی سطح پر مؤثر کردار کا پھر اعتراف، پاکستان اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب
انہوں نے خبردار کیا کہ اخراجات میں کمی کے نام پر اقوام متحدہ کے ترقیاتی اور انسانی کردار کو کمزور نہیں کیا جانا چاہیے۔
’یومِ اقوامِ متحدہ کے موقع پر پاکستان کثیرالجہتی نظام اور امن، ترقی اور انسانی وقار جیسے اقوام متحدہ کے منشور کے ان اعلیٰ مقاصد کے لیے اپنی پائیدار وابستگی کا اعادہ کرتا ہے۔‘














