روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکا کی جانب سے روس کی 2 بڑی تیل کمپنیوں پر عائد نئی پابندیوں کو ’سنگین مگر غیر فیصلہ کن‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا روسی معیشت پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کی گئی تازہ پابندیاں روسی تیل کمپنیوں روس نیفٹ (Rosneft) اور لوک آئل (Lukoil) کو نشانہ بناتی ہیں۔ یہ پابندیاں ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد روس کے خلاف عائد کی جانے والی پہلی بڑی کارروائی ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا روس پر بڑا وار: 2 بڑی روسی آئل کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد، پیوٹن سے ملاقات منسوخ
پیوٹن نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ پابندیاں ہمارے لیے بلاشبہ سنجیدہ ہیں اور ان کے کچھ اثرات ہوں گے، لیکن یہ ہماری اقتصادی خوشحالی کو نمایاں طور پر متاثر نہیں کریں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام غیر دوستانہ ہے اور اس سے روس اور امریکا کے درمیان تعلقات کو نقصان پہنچے گا، جو ابھی بحالی کے مرحلے میں تھے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں میں ناکام رہی ہے۔ ٹرمپ نے پیوٹن سے یوکرین میں جنگ بندی پر اتفاق نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا اور بوداپسٹ میں مجوزہ سربراہی اجلاس کے منسوخ ہونے کے بعد صبر کا دامن چھوڑ دیا۔
مزید پڑھیں: ’تمہاری ماں نے‘: ٹرمپ پیوٹن ملاقات سے متعلق سوال پر وائٹ ہاؤس ترجمان کا تضحیک آمیز جواب
اس کے باوجود پیوٹن نے مذاکرات جاری رکھنے کی حمایت کی اور کہا کہ مکالمہ ہمیشہ تصادم یا جنگ سے بہتر ہے۔ ہم ہمیشہ بات چیت کے حامی رہے ہیں۔
تاہم انہوں نے سخت لہجے میں خبردار کیا کہ اگر روس پر امریکی ٹوماہاک میزائلوں سے حملہ کیا گیا، جن کی فراہمی یوکرین چاہتا ہے تو روس کا ردِ عمل ’انتہائی سخت، بلکہ تباہ کن‘ ہوگا۔
یہ تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا روس پر معاشی دباؤ بڑھا رہا ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک بار پھر کشیدگی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔














