اسلام آباد میں لائف اسٹائل میڈیسن کی چھٹی بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز

جمعہ 24 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

  لائف اسٹائل میڈیسنICLM 2025  کی چھٹی بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز جمعہ کو اسلام آباد میں ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: ہائی بلڈ پریشر سے وابستہ گردوں کی بیماریاں اموات میں اضافے کا سبب قرار

ہائی لینڈ کنٹری کلب اینڈ ریزورٹ میں منعقد ہونے والی یہ تقریب پاکستان کے صحت عامہ کے نظام کو امراض سے پیشگی احتیاط، ہمدردانہ اور پائیدار سمت میں لے جانے کے سفر کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہو رہی ہے۔

یہ 3 روزہ بین الاقوامی کانفرنس پاکستان ایسوسی ایشن آف لائف اسٹائل میڈیسن (PALM) اور رفاہ انسٹیٹیوٹ آف لائف اسٹائل میڈیسن (RILM) کے اشتراک سے منعقد کی گئی ہے، جس کا موضوع ’غیر متعدی امراض کا رخ موڑنا: انسان کامل کا نقطۂ نظر‘ہے۔

کانفرنس میں ملکی و غیر ملکی ماہرین صحت، محققین، معالجین اور پالیسی ساز شریک ہیں جو ایسے سائنسی اور عملی طریقوں پر غور کر رہے ہیں جن سے دنیا بھر میں اموات کا سبب بننے والی  بیماریاں روکی جاسکتی ہیں کم کی جاسکتی ہیں اور حتیٰ کہ ختم بھی کی جا سکتی ہیں۔

افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال اور صدر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ڈاکٹر رضوان تاج تھے جبکہ عالمی ادارۂ صحت، جامعات اور مختلف طبی اداروں کے اعلیٰ نمائندے بھی شریک ہوئے۔

ڈاکٹر بیتھ فریٹس، چیئر رفاہ انسٹیٹیوٹ آف لائف اسٹائل میڈیسن اور لائف اسٹائل میڈیسن کی عالمی سطح کی بانی ماہر نے کہا کہ لائف اسٹائل میڈیسن کوئی متبادل نظام نہیں بلکہ پائیدار صحت کی بنیاد ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سائنس، ہمدردی اور تعاون کے امتزاج سے ہم ایسا نظام صحت تشکیل دے سکتے ہیں جو انسانوں کو طویل، صحت مند اور بامقصد زندگی گزارنے کے قابل بنائے۔

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے اپنے خطاب میں کہا کہ لائف اسٹائل میڈیسن کا فلسفہ ان کے دل کے قریب ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بیماری کے علاج کے بجائے بیماری سے بچاؤ اور صحت کے فروغ کی جانب بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لائف اسٹائل میڈیسن ہمیں ایک صحت مند قوم کے قیام کی واضح راہ دکھاتی ہے۔

کانفرنس کے دوران ’ہول پرسن اپروچ‘ کے تحت سائنس اور بہبود انسانی کو یکجا کیا گیا ہے جس میں شرکا کے لیے پودوں پر مبنی غذائیں، مراقبہ و ذہنی سکون کے سیشنز، ڈیجیٹل ہیلتھ، نیند اور طرز عمل میں تبدیلی سے متعلق مباحث شامل ہیں۔

مزید پڑھیے: فیٹی لیور کے مریضوں میں قبل از وقت موت کا خطرہ کن 3 بیماریوں کے باعث بڑھ جاتا ہے؟

پروگرام میں غذائیت، جسمانی سرگرمی، جذباتی مضبوطی اور سماجی روابط کو صحت مند معاشرے کے بنیادی ستونوں کے طور پر اجاگر کیا جا رہا ہے۔

امریکا، برطانیہ، متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مندوبین احتیاطی طب، تحقیق، تربیت اور طبی تعلیم کے فروغ کے لیے باہمی اشتراک کر رہے ہیں۔

کانفرنس کے اختتام پر ’اسلام آباد اعلامیہ‘ جاری کیا جائے گا جس میں سفارش کی جائے گی کہ لائف اسٹائل میڈیسن کو بنیادی صحت کے نظام، پالیسی سازی اور طبی نصاب کا حصہ بنایا جائے۔

کانفرنس کے اختتام پر ایک خصوصی گالا ڈنر اور عشائیہ کا اہتمام بھی کیا جائے گا جس میں سماجی ہمدردی، باہمی تعلق اور فلاحی جذبے کو فروغ دینے والے شرکاء کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا۔

ڈاکٹر شگفتہ فیروز، ڈائریکٹر RILM نے کہا کہ یہ صرف ایک کانفرنس نہیں بلکہ ایک تحریک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک ایسا ماڈل جو صحت کو انسان اور معاشرے کے باہمی رشتے سے جوڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام شرکا اپنے حلقۂ اثر میں تبدیلی کا نمائندہ بنیں۔

مزید پڑھیں: کیا ٹوائلٹ سیٹ سے جنسی و دیگر بیماریاں لگ سکتی ہیں؟

PALM کی جانب سے ایڈووکیسی، تربیت اور آگاہی کے فروغ اور RILM  کے ذریعے طبی تعلیم و تحقیق میں جدت کے ساتھ پاکستان تیزی سے لائف اسٹائل میڈیسن کا علاقائی مرکز بن رہا ہے جہاں صحت کا مفہوم صرف بیماری سے نجات نہیں بلکہ توانائی، مقصد اور انسانی ربط کی موجودگی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران پر حملے جاری رکھنے کے اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ مندی کی نذر

وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس، صوبے میں مفت علاج اور صحت کے 4 بڑے منصوبوں کا جائزہ

جمعہ کے روز آن لائن کلاسز کی اجازت، وزیر تعلیم پنجاب کا اعلان

’فرانسیسی صدر کی اہلیہ بہت برا سلوک کرتی ہیں، وہ اب بھی بیوی کے حملے سے صحتیاب نہیں ہوسکے‘، ڈونلڈ ٹرمپ

بھارتی ٹرین میں ملنے والا کھانا مسافر خاتون کے لیے بدترین الرجی کا باعث بن گیا

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟